میر جاقیب دولاتولی

ميرجاقيب دولاتولي

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

میر جاقیب دولاتولی (1885–1935) قازق شاعر اور مصنف اور علاش اوردا حکومت کے رہنماؤں میں سے تھے، جدید قازق ادب کے پہلے ناول «باقیتسز جمال» (1910) اور شعری مجموعے «اویان! قازق» (1909) کے مصنف؛ 1928 میں قوم پرستی کے الزام میں گرفتار ہوئے اور 1935 میں مزدور کیمپ میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · writer · سیاست دان
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عبد الحفیظ بن الحسن · عبد القادر المغربي · عبد الرحمٰن الشہبندر

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    زندگی اور تعلیم

    وہ 25 نومبر 1885 کو تورغائی اوبلاست کے ساریکوپا گاؤں میں ایک دستکار کے گھر پیدا ہوئے؛ ویکی ڈیٹا کا 25 اکتوبر کا متبادل دن کسی پڑھے گئے مضمون سے ثابت نہیں 1 2۔ گاؤں کی تعلیم کے بعد 1897 میں تورغائی کے روسی قازق اسکول میں داخل ہوئے، اور 1904 میں قرقرالی میں علی خان بوکیخانوف اور احمد بایتورسینوف سے ملاقات کے بعد ان کے اثر سے سرکردہ قازق اصلاح پسند بنے 1۔

    «اویان! قازق» اور «باقیتسز جمال»

    ان کی شعری کتاب «اویان! قازق» (جاگ اے قازق!، 1909)، جو تخلص «آزامات» سے شائع ہوئی، زاری حکام نے ضبط کر لی اور ان کی شہرت سٹیپ میں پھیل گئی؛ ان کا ناول «باقیتسز جمال» (1910) جدید قازق ادب کا پہلا ناول شمار ہوتا ہے، اور وہ مادیار اور ارغین کے تخلص بھی استعمال کرتے تھے 1 3۔

    علاش اوردا

    انہوں نے بوکیخانوف اور بایتورسینوف کے ساتھ 1913 میں اخبار «قازق» کی بنیاد رکھی، 1917 میں اورینبرگ کی آل قازق کانگریس میں شریک ہوئے اور سوویت فتح تک علاش اوردا حکومت کے رہنماؤں میں رہے 1۔ 1920 کی دہائی میں قیزیلوردا اور سمے میں تعلیم و اشاعت سے وابستہ رہے۔

    گرفتاری اور وفات

    دسمبر 1928 میں قوم پرستی کے الزام میں گرفتار ہوئے، 1930 میں سزائے موت دس سال قید سے بدل گئی اور کیمپوں میں بھیج دیے گئے؛ 5 اکتوبر 1935 کو وفات پائی — انگریزی اور قازق مضامین ان کی موت سولووکی کیمپ میں بتاتے ہیں، جبکہ روسی مضمون کریلیا کے سوسنوویتس کیمپ کی عیادت گاہ بتاتا ہے 1 4۔ 1988 میں انہیں بحال کیا گیا 3۔ ان کے مضمون کا کوئی اردو نسخہ موجود نہیں، اس لیے یہ اردو متن دستیاب ماخذوں سے لکھا گیا ہے۔

    عقیدہ

    قازق مضمون کا انفوباکس ان کا مذہب سنی اسلام بتاتا ہے، لیکن یہ قرأت ایک ہی انفوباکس خاندان پر مبنی ہے اور کسی متن سے مستند نہیں؛ انگریزی متن صرف مسلم گھرانے میں پیدائش کا ذکر کرتا ہے، روسی مضمون کوئی مذہب نہیں بتاتا، اور ویکی ڈیٹا میں مذہب کی کوئی قدر نہیں 3 1 2۔ اس لیے ان کا عقیدہ نامعلوم درج ہے، نشان زدہ، اور سنی انفوباکس قرأت ریکارڈ کے نوٹ میں محفوظ ہے۔

    Sources

    • The defined source entities cited above, recorded in data/source/.
    • Revisions of this article must be dated, and must name the source that changed each fact.

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Allied with
    علی خان بوکیخانوف· احمد بایتورسینوف

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    احمد بایتورسینوف· علی خان بوکیخانوف· مصطفیٰ شوكاي

    ماخذ

    1. Mirjaqip Dulatuli — English Wikipedia
    2. Mirjaqip Dulatuli — Wikidata Q1045918
    3. Mirjaqip Dulatuli — Kazakh Wikipedia
    4. Mirjaqip Dulatuli — Russian Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “میر جاقیب دولاتولی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mirjaqip-dulatuli/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    احمد بایتورسینوف

    احمد بایتورسینول (1872–1937) قازق ماہرِ لسانیات، شاعر اور معلم تھے جنہوں نے قازق زبان کے لیے عربی رسم الخط کی اصلاح کی، 1913 میں علی خان بوکیخانوف اور میر جاقیب دولاتولی کے ساتھ اخبار «قازق» کی بنیاد رکھی، علاش تحریک کی قیادت میں شریک رہے اور 1937 میں الما آتا میں گولی مار کر ہلاک کیے گئے۔