علی الطنطاوی

علي الطنطاوي

–

دمشق → جدة → مكة المكرمة

شامی فقیہ، ادیب اور قاضی ⁦(1909ء–1999ء)⁩، جنھوں نے بیس برس «الرسالہ» میں لکھا، پچیس برس قضا میں گزارے اور شام کے قانونِ احوالِ شخصیہ کا مسودہ تیار کیا، پھر پینتیس برس سعودی عرب میں رہے، جہاں ان کے پروگرام «علیٰ مائدۃ الافطار»، «نور و ہدایہ» اور «مسائل و مشکلات» وہاں کے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے طویل ترین پروگراموں میں تھے؛ 1990ء میں شاہ فیصل انعام برائے خدمتِ اسلام۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
فقیہ · writer · judge · presenter
خطہ
levant-iraq · arabia
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: آدم عبد اللہ عثمان · حبیب بورقیبہ · حکیم عبد الحمید · ابراہیم العریض · لیوپولڈ سیدار سینگور

مکان میں

دمشقجدةمكة المكرمة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں

    عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات1990

    اعزازات

    ڈیجیٹل نقش

    ویکیپیڈیا پر ان زبانوں میں:arbnckbdeenfrhatrugur (2026-11-07 کو پڑھا گیا)

    ویکی ڈیٹا:Q12227911

    خلاصہ

    محمد علی بن مصطفیٰ الطنطاوی، جو علی الطنطاوی کے نام سے معروف ہیں ⁦(1327–1420ھ / 1909ء–1999ء)⁩، شامی فقیہ، ادیب اور قاضی تھے، اور بیسویں صدی میں اسلامی دعوت اور عربی ادب کی بڑی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ دمشق کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے؛ والد شیخ مصطفیٰ الطنطاوی دمشق میں امانتِ فتویٰ کے منصب پر تھے، خاندان کی اصل مصر کے طنطا سے تھی، اور ماموں ادیب محب الدین الخطیب تھے۔ سولہ برس کی عمر میں والد کی وفات کے بعد خاندان کی ذمہ داری ان پر آئی۔ 1928ء میں مکتب عنبر سے میٹرک کیا، ایک سال قاہرہ کے دار العلوم میں گزارا، اور 1933ء میں دمشق یونیورسٹی سے قانون کی سند لی؛ انھی برسوں میں تقریباً تین سال فرانسیسی انتداب کے خلاف «شامی طلبہ کی اعلیٰ کمیٹی» کی قیادت کی۔ 1

    صحافت اور تدریس

    ان کا پہلا مضمون 1926ء میں «المقتبس» میں چھپا؛ انھوں نے «الفتح»، «الزہراء» اور «الایام» میں لکھا، پھر احمد حسن الزیات کے «الرسالہ» میں 1933ء سے 1953ء میں اس کی بندش تک بیس برس، اور عمر کے آخر میں «الشرق الاوسط» میں تقریباً پانچ سال اپنی یادداشتیں شائع کیں۔ 1931ء سے 1940ء تک شام، عراق اور لبنان میں پڑھایا؛ قومی مواقف کی وجہ سے بار بار تبادلے ہوئے، یہاں تک کہ 1940ء میں دیر الزور کے ایک خطبۂ جمعہ کے بعد تدریس سے ہٹا دیے گئے۔ 1

    قضا

    پھر وہ پچیس برس قاضی رہے — النبک اور دوما میں، پھر 1943ء سے 1953ء تک دمشق کے قاضیِ اعلیٰ، اور دمشق اور، مصر سے اتحاد کے زمانے میں، قاہرہ میں عدالتِ نقض کے مشیر۔ 1947ء میں انھیں قانونِ احوالِ شخصیہ کا مکمل مسودہ تیار کرنے کی ذمہ داری ملی؛ مصر میں ایک سال گزار کر انھوں نے وہ مسودہ تیار کیا جو شام کے قانون کی بنیاد بنا۔ 1

    سعودی عرب میں

    1963ء میں وہ تدریس کے لیے ریاض گئے، پھر مکہ، اور پینتیس برس مکہ اور جدہ میں رہے۔ مکہ کے کالج آف ایجوکیشن میں پڑھانے کے بعد دینی تعلیم و فتویٰ کے لیے وقف ہو گئے، اور ریڈیو پر «مسائل و مشکلات» اور ٹیلی وژن پر «نور و ہدایہ» پیش کیے — مملکت کی نشریات کے طویل ترین پروگراموں میں — اور ساتھ ان کا مشہور ترین «علیٰ مائدۃ الافطار»۔ وہ تیس کی دہائی کے آغاز سے یافا کے نیئر ایسٹ اسٹیشن، 1937ء میں بغداد اور 1942ء سے دمشق سے نشریات کر چکے تھے۔ 1

    اعزاز اور وفات

    1990ء میں انھیں خدمتِ اسلام کا شاہ فیصل انعام ملا۔ 3 اسّی برس کی عمر میں نشریات چھوڑ دیں، اور 4 ربیع الاول 1420ھ / 18 جون 1999ء کو جدہ میں فوت ہوئے؛ مسجد حرام میں نمازِ جنازہ ہوئی اور مکہ میں دفن ہوئے۔ ان کی کتب میں «رجال من التاریخ»، «قصص من التاریخ»، «من نفحات الحرم» اور آٹھ جلدوں میں یادداشتیں شامل ہیں۔ 1

    ڈیجیٹل موجودگی

    7 نومبر 2026ء کو ویکی ڈیٹا کے مطابق ان پر ویکیپیڈیا کے دس نسخوں میں مضامین تھے۔ 2

    مراجع

    • عربی ویکیپیڈیا مضمون، نظرِ ثانی 5 نومبر 2026ء۔ 1

    • ویکی ڈیٹا آئٹم Q12227911۔ 2

    • شاہ فیصل انعام یافتگان کی فہرست، نظرِ ثانی 31 اکتوبر 2026ء۔ 3

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    دمشق
    Died in
    جدة
    Buried in
    مكة المكرمة
    Awarded
    شاہ فیصل انعام

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    سبکی کا دمشق کا سفر اور حج، تقریباً 710ھ/1310ء· زمخشری کا دوسرا سفر، دمشق راستہ مکہ، 526ھ/1132ء· ابن قیم کا حج، شامی قافلے کے ساتھ، 731ھ/1331ء· ابن تیمیہ کا حج اور مناسک پر رسالہ، 691ھ/1292ء· سمعانی کا طلبِ حدیث کا پہلا بڑا سفر، 529-538ھ/1135-1143ء· الموطأ 398 — بلاغ: ابن عباس يقصر فيما بين مكة والطائف وعسفان وجدة· عبد اللہ بن عمر نصیف· ابو الحسن علی حسنی ندوی

    ماخذ

    1. علي الطنطاوي — Arabic Wikipedia
    2. Ali al-Tantawi — Wikidata Q12227911
    3. King Faisal Prize — English Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “علی الطنطاوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ali-al-tantawi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-07.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    سبکی کا دمشق کا سفر اور حج، تقریباً 710ھ/1310ء

    قاہرہ میں تعلیم کے بعد سبکی دمشق گئے اور حج ادا کیا، پھر مصر واپس آئے اور جامع ابن طولون کے پاس مدرسہ منصوریہ میں تدریس کی ؛ ابن کثیر کے مطابق وہ شام گئے، خود پڑھے، لکھا اور پڑھایا ۔