مرزا قلیچ بیگ

مرزا قليچ بيگ

–

سندھی عالم و ادیب (1853-1929)، حیدرآباد سندھ سے؛ برطانوی عدالتی ملازمت میں تیس برس گزار کر 1910 میں ریٹائر ہوئے اور برطانوی حکومت نے انہیں «شمس العلما» کا خطاب دیا۔ انہوں نے آٹھ زبانوں اور 43 علوم میں تقریباً 457 کتابیں لکھیں اور ترجمہ کیں، جن میں پہلا سندھی ناول «زینت»، چچ نامے کا فارسی سے انگریزی ترجمہ، شاہ عبد اللطیف بھٹائی پر بنیادی مطالعات اور خودنوشت «سائو پن یا کارو پنو» شامل ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · writer · شاعر · مترجم · مؤرخ
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: علی حاجی اکوشا · بدرالدین الحسنی · دلی فواد پاشا · حسین ابن علی ہاشمی · جماعت علی شاہ

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    شمس العلما مرزا قلیچ بیگ (4 اکتوبر 1853 – 3 جولائی 1929) حیدرآباد، سندھ کے عالم، شاعر، ماہرِ لسانیات، مورخ، مترجم، ناول نگار اور ڈراما نویس تھے۔ انہوں نے آٹھ زبانوں میں تقریباً 457 کتابیں تصنیف، تالیف و ترجمہ کیں، اور برطانوی حکومتِ ہند نے انہیں «شمس العلما» کے خطاب سے نوازا۔ 1

    زندگی اور ملازمت

    وہ ٹنڈو ٹھوڑو، حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا فریدون بیگ جارجیا کے ایک گھرانے سے تھے، بچپن میں قید ہو کر سندھ کے مرزا خسرو بیگ کے ہاتھ فروخت ہوئے، جنہوں نے انہیں آزاد کر کے تعلیم دی اور اپنی بیٹی سے شادی کرائی۔ 1 2

    انہوں نے مکتب، گورنمنٹ ہائی اسکول حیدرآباد اور الفنسٹن کالج بمبئی سے تعلیم پائی؛ عدالتی امتحان پاس کر کے شکارپور میں مختیار کار تعینات ہوئے اور تیس برس کی ملازمت کے بعد 1910 میں ڈپٹی کلکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ 1

    ان کی تاریخِ پیدائش میں ایک اختلاف درج ہے: ان کی خودنوشت (بقول سندھی مضمون) ان کی پیدائش 4 محرم 1270ھ بتاتی ہے جو 7 اکتوبر 1853 بنتی ہے، جبکہ انگریزی و اردو مضامین اور ویکی ڈیٹا 4 اکتوبر 1853 دیتے ہیں؛ اسی کو یہاں لیا گیا ہے۔ 3 2

    تصانیف

    ان کی آٹھ زبانوں (عربی، بلوچی، انگریزی، فارسی، سندھی، سرائیکی، ترکی، اردو) میں 457 کتابیں تاریخ، لطیفیات، شاعری، بچوں کے ادب، تنقید اور سائنس سمیت بے شمار موضوعات پر ہیں۔ 1

    ان میں پہلا سندھی ناول «زینت»، چچ نامے کا فارسی سے پہلا انگریزی ترجمہ، شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی سوانح و شاعری پر بنیادی کام — جسے اردو مضمون سندھی ادبی تنقید کا آغاز کہتا ہے — شیکسپئر کے ڈراموں کے سندھی تراجم، دیوانِ قلیچ اور خودنوشت «سائو پن یا کارو پنو» شامل ہیں۔ 1

    وفات

    3 جولائی 1929 کو وہ اپنے جائے پیدائش ٹنڈو ٹھوڑو، حیدرآباد میں وفات پا گئے۔ 1 4

    کسی ماخذ نے ان کے لیے کوئی فقہی مذہب بیان نہیں کیا اور ویکی ڈیٹا ان کی کوئی مذہبی نسبت درج نہیں کرتا، اس لیے اس ریکارڈ میں ان کا مذہب غیر مصنف رکھا گیا ہے۔ 4

    حوالہ جات

    • انگریزی ویکیپیڈیا «Mirza Qaleech Baig» (نظرثانی 1379403577)؛ اردو ویکیپیڈیا (نظرثانی 10058517)؛ سندھی ویکیپیڈیا (نظرثانی 373133)؛ ویکی ڈیٹا Q6874881۔

    ماخذ

    1. Mirza Kalich Beg — Urdu Wikipedia
    2. Mirza Kalich Beg — English Wikipedia
    3. Mirza Kalich Beg — Sindhi Wikipedia
    4. Mirza Kalich Beg — Wikidata Q6874881
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “مرزا قلیچ بیگ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mirza-kalich-beg/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔