ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · writer
- شناختیں
- Wikidata
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
سنی (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
نواب محسن الملک، پیدائشی نام سید میر مہدی علی (9 دسمبر 1837 – 16 اکتوبر 1907)، ہندوستانی مسلمان سیاست دان تھے، سر سید احمد خان کے قریب ترین رفیق اور علی گڑھ تحریک میں ان کے جانشین، اور 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے بانیوں میں سے ایک۔ انھوں نے ریاست حیدر آباد کی بیس سال خدمت کی، جہاں نظام نے انھیں منیر نواز جنگ (1884) اور نواب محسن الملک (1887) کے خطابات دیے۔ شیعہ خاندان میں پیدا ہوئے مگر بعد میں اہل سنت کا عقیدہ قبول کیا اور اس کے دفاع میں اپنی کتاب «آیات بیانات» لکھی۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور ملازمت
سید میر مہدی علی 9 دسمبر 1837 کو ایٹاوہ (شمال مغربی صوبے) میں پیدا ہوئے، سید میر ضامن علی کے بیٹے، ساداتِ بارہا کی ایک شاخ سے۔ ایٹاوہ اور اس کے گرد و نواح میں انھوں نے فارسی اور عربی کی ٹھوس بنیادی تعلیم حاصل کی۔ 1867 میں صوبائی سول سروس کے امتحان میں بیٹھے اور کامیاب امیدواروں میں اول آئے؛ ڈپٹی کلکٹر مقرر ہوئے اور پہلی تعیناتی ضلع مرزاپور میں ہوئی۔ 1874 میں وہ نظام حیدر آباد کی خدمت میں داخل ہوئے، جہاں تقریباً بیس سال خدمت کی اور خطابات پائے۔ 1 3
علی گڑھ
ایٹاوہ میں تحصیلدار ہوتے ہوئے ان کی سر سید احمد خان سے ملاقات ہوئی، اور وہ عمر بھر کے رفیق اور ان کے مشن کے مضبوط ترین حامی بن گئے۔ سائنٹفک سوسائٹی کے آغاز (1864) سے اس کے رکن رہے، «تہذیب الاخلاق» میں سید کے خیالات کی حمایت میں لکھا، اور مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے حامیوں کی کمیٹی کے لیے چندے جمع کیے۔ 1893 میں حیدرآباد کی ملازمت سے سبکدوش ہو کر علی گڑھ آ بسے؛ سر سید کی وفات (1898) کے بعد ایم اے او کالج کی انتظامیہ کے سیکرٹری بنے اور 1899 میں محمدن ایجوکیشنل کانفرنس کے سیکرٹری مقرر ہوئے، اور وفات تک دونوں عہدوں پر رہے۔ انھوں نے کوشش کی کہ کالج کے پلیٹ فارم پر جدید سائنسی تعلیم کے ساتھ دینی اور مشرقی علوم کے علما بھی جمع ہوں، اور اس غرض سے مولانا حبیب الرحمن خان شیروانی کی صدارت میں دینی نصاب کی بہتری کی کمیٹی بنائی۔ 1
مسلم لیگ
مذہب اور «آیات بیانات»
محسن الملک شیعہ پیدا ہوئے۔ انگریزی مضمون لکھتا ہے کہ «انھوں نے شیعہ پیدا ہونے کے باوجود سنی عقیدہ قبول کیا اور کتاب آیات بیانات لکھی جس میں دکھایا کہ سنی عقیدہ کیوں افضل ہے»۔ آزادانہ طور پر، مولانا ابو الحسن علی ندوی کی کتاب اور اس کے مصنف پر شائع شدہ رائے کہتی ہے کہ «اپنے وسیع مطالعے، سلیم طبیعت اور گہری سوچ کی بنا پر انھوں نے اہل سنت کا عقیدہ قبول کیا»، اور کتاب کو اس کے میدان میں بے مثال قرار دیتی ہے، جو مصنف کے اپنے مشاہدات پر لکھی گئی۔ ان دونوں نصوص کی بنیاد پر میوزیم ان کی وابستگی «سنی» درج کرتا ہے؛ پڑھے گئے کسی ماخذ نے ان کا فقہی مکتب نہیں بتایا، اس لیے کوئی مکتب درج نہیں۔ 1 2
وفات
مصادر
- اوپر حوالہ شدہ معرّف ماخذ اکائیاں،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر ترمیم مورخہ ہو اور ہر بدلی ہوئی بات کا ماخذ بتائے۔
تعلقات
- Lived in
- حيدر آباد الدكن
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
عبد اللہ قطب شاہ· امیر مینائی· میر نظام علی خان، آصف جاہ ثانی· چراغ علی· داغ دہلوی· محمد قلی قطب شاہ· نظام الدین احمد حسینی· شاہ راجو (حیدرآباد کے صوفی بزرگ)
ماخذ
- Mohsin-ul-Mulk — English Wikipedia
- Mohsin-ul-Mulk — Abu al-Hasan Ali Nadwi's opinion on Ayat-e Bayyinat and its author
- Mohsin-ul-Mulk — Arabic Wikipedia
- Mohsin-ul-Mulk — Urdu Wikipedia
- Mohsin-ul-Mulk — Wikidata Q6894479
- Viqar-ul-Mulk (Waqar-ul-Mulk) — English Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “محسن الملک”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mohsin-ul-mulk/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-03.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON