ایک نظر میں
- کردار
- عالم · writer · editor
- خطہ
- anatolia-balkans
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
رضاء الدين بن فخر الدين (1859–1936) تاتاری اور باشقیر عالم اور مصنف تھے، اور روسی سلطنت کی جدید تحریک کے سب سے زیادہ لکھنے والوں میں سے ایک۔ 1 1891 میں مسلمانوں کی دینی انتظامیہ کے قاضی منتخب ہوئے، اخبار «وقت» کے مدیر اور مجلہ «شورا» کے بانی (1908–1918) رہے، اور انقلاب کے بعد اپنی وفات تک یورپی روس کے مفتی رہے۔ 1 2 ان کا مشہور ترین کام سوانحی مجموعہ «آثار» ہے۔ 1
ان کی پیدائش مآخذ میں منقسم ہے: عربی اور اردو مقالے 13 جنوری 1859 (گاؤں کیچوچٹ، صوبہ سمارا) دیتے ہیں، انگریزی مقالے کا صدر 12 جنوری 1858، وکی ڈیٹا 4 جنوری 1859، اور خصوصی ادب کے عنوانات میں 1858–1936 بھی آتا ہے۔ 3 2 1 4 ریکارڈ 13 جنوری 1859 کو متنازع درج کر کے اختیار کرتا ہے۔ 3
زندگی و کیریئر
وہ کیچوچٹ کے ملاں کے بیٹے تھے؛ اپنے والد کے کتّاب اور پڑوسی گاؤں چلشلی کے مدرسے میں پڑھے۔ 1 اردو مقالہ بتاتا ہے کہ وہ بچپن میں چستوپول مدرسہ گئے، 1886 میں قازان جا کر شہاب الدين مرجانی سے ملے، اور 1888 میں پیٹرزبرگ میں جمال الدين افغانی سے ملاقات کی؛ وہ مرجانی، افغانی اور اسماعیل غسبرینسکی کو اپنے روحانی مرشد سمجھتے تھے۔ 2 تیس برس کی عمر میں البیک گاؤں کے ملاں اور مدرسے کے سربراہ بنے، اور 1891 میں قاضی منتخب ہو کر اوفا منتقل ہوئے جہاں انہوں نے دینی انتظامیہ کے آرکائیو کو مرتب کیا۔ 1 1905 میں انہوں نے اصلاحی پروگرام پیش کیا جسے روسی حکومت نے رد کر دیا؛ 1906 میں «وقت» کے مدیر بنے اور موسیٰ بیگی کے قریبی دوست ہوئے؛ 1908 میں «شورا» جاری کیا جو 1918 میں سوویت حکومت نے بند کر دیا۔ 1 2
مفتی غلیمجان بڑودی کی وفات (6 دسمبر 1921) کے بعد وہ مفتی کے منصب پر فائز ہوئے اور 10 جولائی 1923 کو باضابطہ مفتی منتخب ہوئے۔ 2 12 اپریل 1936 کو اوفا میں وفات پائی اور شہر کے مسلم قبرستان میں دفن ہوئے؛ وکی ڈیٹا میں 11 اپریل کی قدر بھی ہے جسے ریکارڈ درج کرتا ہے مگر اختیار نہیں کرتا۔ 2 4
کام
انہوں نے ساٹھ سے زیادہ کتابیں لکھیں؛ اہم ترین «آثار» اور «مشہور ارلر» ہیں — وسطی ایشیا کے علما کی سوانح کے دو جلدوں والے مجموعے جو انہوں نے دینی انتظامیہ کے آرکائیو میں کام کے دوران لکھے — اور «مشہور خاتونلر» خواتین کی سوانح پر ہے۔ 1
موقف و نقد
یہ قسم مآخذ کی روایت کردہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔
رورلیخ کے حوالے سے انگریزی مقالہ بتاتا ہے کہ تعلیم کے ذریعے غربت پر قابو، اسلام اور سائنس کی مصالحت، خرافات کا ترک اور اسلام کی ابتداء کی طرف رجعت ان کی فکر کے محور تھے۔ 1 ان کا قاضی اور مفتی ہونا حنفی ماحول کی دینی انتظامیہ کے مناصب تھے، شخصی مکتب کی شہادت نہیں؛ کوئی ماخذ ان کے لیے مکتب کا نام نہیں لیتا، اس لیے ان کا مذہب ریکارڈ میں «نامعلوم» درج ہے۔ 4
مآخذ
- اوپر مذکور معرّف مآخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہو اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرے۔
ماخذ
- Rizaeddin bin Fakhreddin — English Wikipedia
- Rizaeddin bin Fakhreddin — Urdu Wikipedia
- Rizaeddin bin Fakhreddin — Arabic Wikipedia
- Rizaeddin bin Fakhreddin — Wikidata Q4481567
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “رضاء الدين فخر الدين”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/rizaeddin-bin-fakhraddin/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.