کیا مسلمان کہے: میں ان شاء اللہ مومن ہوں؟

هل يقول المسلم: أنا مؤمن إن شاء الله؟

The question of the exception in faith: Ibn Batta al-Ukbari holds that it is a mark of people of knowledge to say 'I am a believer, God willing', not out of doubt but out of apprehension and refusal to praise oneself; his editor notes that scholars hold three views: that it is required, that it is forbidden because it suggests doubt, and a distinction between the two.

گہرائی

ایک نظر میں

متنازع فیہ: اس مضمون میں ایسے امور شامل ہیں جن پر علماء کا اختلاف ہے۔ شیخ کی آراء ان کی اپنی قرار دی گئی ہیں، اور دیگر آراء پر، جہاں ابھی حوالہ موجود نہیں، نشان لگایا گیا ہے۔

creedsects-and-schools

خلاصہ

«ایمان میں استثنا» کا مطلب ہے کہ مسلمان اپنے بارے میں کہے: «میں ان شاء اللہ مومن ہوں»۔ ابن بطہ عکبری نے «الابانۃ الکبریٰ» میں اس پر ایک باب باندھا ہے، اور کتاب کے محقق ذکر کرتے ہیں کہ اس میں علما کے تین اقوال ہیں۔ 1

ابن بطہ کا قول

ابن بطہ باب کا آغاز اس بات سے کرتے ہیں کہ مومنوں کی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے ایمان کے بارے میں ہمیشہ فکرمند اور اپنے دین کے بارے میں بہت محتاط رہتے ہیں۔ ان کے دل ایمان چھن جانے کے خوف سے لرزاں رہتے ہیں؛ وہ نہیں جانتے کہ باقی عمر میں اللہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا، اور اپنی تعریف آپ کرنے سے بچتے ہیں۔ 1 2 وہ اپنی سند سے عائشہ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا جو «دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل ڈرتے ہیں»: کیا یہ وہ شخص ہے جو چوری، زنا اور شراب نوشی کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ وہ ہے جو روزہ رکھتا، نماز پڑھتا اور صدقہ دیتا ہے اور ڈرتا ہے کہ قبول نہ ہو۔ محقق اس کی تخریج ترمذی وغیرہ سے کرتے ہیں۔ 3 پھر ابن بطہ کہتے ہیں کہ جب یہ فکرمندی ان کے دلوں میں جم گئی تو انہوں نے اپنی گفتگو میں استثنا کو لازم پکڑا۔ ان کے بقول اہلِ عقل و علم کی صفت یہ ہے کہ آدمی کہے: میں ان شاء اللہ مومن ہوں، «شک کی بنا پر نہیں»؛ کیونکہ ایمان اللہ کی ربوبیت کا اقرار، بندگی میں اس کے آگے جھکنا اور اس کی تصدیق ہے۔ 3

محقق کی وضاحت

محقق اپنی دراسہ میں بیان کرتے ہیں کہ استثنا کرنے والوں کے نزدیک اس کے کیا معانی ہیں: معاملے کو اللہ کی مشیت کے سپرد کرنا، اپنے آئندہ عمل اور اس کی قبولیت کے بارے میں، جو انسان نہیں جانتا، قطعی بات نہ کہنا، ثابت قدمی کی امید رکھنا، اور اپنی تعریف آپ نہ کرنا۔ ان کے بقول ان علما کے نزدیک استثنا چھوڑنے کا تعلق مرجئہ کے قول سے ہے، جو عمل کو ایمان سے خارج کرتے ہیں۔ 4 5 وہ ابن تیمیہ سے نقل کرتے ہیں کہ اصحابِ حدیث کے سلف، جیسے ابن مسعود، ابن عیینہ اور احمد بن حنبل، ایمان میں استثنا کرتے تھے۔ اس نقل کے مطابق یہ بات ان سے تواتر سے ثابت ہے، اور وہ استثنا اس لیے کرتے تھے کہ ایمان میں واجبات کی ادائیگی شامل ہے، اس لیے وہ اپنے حق میں اس کی گواہی نہیں دیتے تھے۔ 6

کتاب الایمان میں ابن تیمیہ

کتاب الایمان میں ابن تیمیہ تین اقوال پیش کرتے ہیں: جو استثنا کو واجب کہتے ہیں، جو اسے حرام کہتے ہیں، اور جو دو اعتبارات سے دونوں کو جائز کہتے ہیں، اور آخری کو سب سے صحیح قرار دیتے ہیں۔ 7 وہ حرمت کا قول مرجئہ اور جہمیہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، جو ایمان کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں جسے انسان اپنے اندر اسی طرح جانتا ہے جیسے یہ کہ اس نے فاتحہ پڑھی، چنانچہ وہ استثنا کرنے والے کو شک کرنے والا سمجھتے اور ایسوں کو «شکاکہ» کہتے ہیں۔ 7 8 وہ واجب کہنے والوں کی دو بنیادیں بتاتے ہیں۔ پہلی یہ کہ ایمان وہ ہے جس کے ساتھ بندہ موت کے وقت اپنے رب سے ملے؛ ان کے نزدیک یہ بہت سے متاخر کلابیہ کی بنیاد ہے جس کا سلف میں سے کوئی قائل نہیں، اور بعض نے اسے یہاں تک بڑھایا کہ ہر چیز میں استثنا کرنے لگے۔ 8 9 10 دوسری یہ کہ مطلق ایمان تمام مامورات پر عمل اور تمام محرمات کے ترک کو شامل ہے، اس لیے جو اپنے لیے اس کی گواہی دے وہ اپنا تزکیہ کرتا اور ایسی بات کی گواہی دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا؛ ان کے نزدیک یہ استثنا کرنے والے عام سلف کی بنیاد ہے۔ 11

وہ خلال سے روایات نقل کرتے ہیں کہ احمد کسی کا دوسرے سے «کیا تم مومن ہو؟» پوچھنا ناپسند کرتے اور اسے مرجئہ کی ایجاد کردہ بدعت کہتے تھے جس سے وہ اپنے قول پر دلیل لاتے، کہ وہ «ہم مسلمان ہیں» کہتے، اور جو مرجئہ کا مقصد نہ رکھتا ہو اس پر استثنا چھوڑنے کا انکار نہ کرتے؛ اور سفیان بن عیینہ ایسے سائل کو جواب نہ دیتے اور کہتے: تمہارا مجھ سے سوال بدعت ہے، اور مجھے اپنے ایمان میں شک نہیں۔ وہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ احمد اور دوسرے سلف دل کے ایمان پر جزم رکھتے تھے اور استثنا کو اس مطلق ایمان کی طرف لوٹاتے تھے جو مامور پر عمل کو شامل ہے۔ 12

جو یہاں مذکور نہیں

ممانعت کے قائلین، یعنی حنفیہ، ماتریدیہ وغیرہ، کے اقوال ان کی اپنی کتابوں سے ابھی شامل نہیں کیے گئے، اور نہ اس مسئلے کی علمی قراءتیں۔

سوال پر آراء

پہلی رائے · اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · sunni-hanbaliبنیادی حوالہ

قائل: ابن بطہ عکبری، عبید اللہ بن محمد

بنیاد: الإبانة عن شريعة الفرقة الناجية لابن بطة، كتاب الإيمان، تحقيق رضا بن نعسان معطي (دار الراية)

مزید آراء (4)

اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · sunniثانوی رائے

بنیاد: الإبانة عن شريعة الفرقة الناجية لابن بطة، كتاب الإيمان، تحقيق رضا بن نعسان معطي (دار الراية)

اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · sunni-hanbaliبنیادی حوالہ

استثنا کرنا اور چھوڑنا دو اعتبارات سے جائز ہے؛ یہ مطلق ایمان کی طرف لوٹتا ہے، اس کی اصل کی طرف نہیں

ابن تیمیہ کے نزدیک صحیح ترین قول یہ ہے کہ دونوں دو اعتبارات سے جائز ہیں؛ عام سلف کی بنیاد یہ تھی کہ مطلق ایمان تمام مامورات کو شامل ہے، اس لیے اس کی گواہی تزکیہ ہے؛ موت کے وقت کی حالت پر اسے مبنی کرنا متاخر کلابیہ کی بنیاد ہے؛ اور وہ احمد اور ابن عیینہ سے «کیا تم مومن ہو؟» کے سوال کی کراہت نقل کرتے ہیں۔

قائل: ابن تيمية

بنیاد: مجموعة الفتاوى لابن تيمية، اعتنى بها عامر الجزار وأنور الباز، المجلد السابع (الإيمان)، دار الوفاء، الطبعة الأولى 1418هـ/1997م Dar al-Wafa' vol. 7, scan pp. 269–281

other نقطۂ نظرثانوی رائے

مرجئہ اور جہمیہ: استثنا حرام ہے کیونکہ یہ شک ہے

ابن تیمیہ کی نقل میں: وہ ایمان کو ایک ہی چیز یعنی وہ تصدیق سمجھتے ہیں جسے انسان اپنے اندر جانتا ہے، اس لیے اس میں ان شاء اللہ نہیں کہا جاتا جیسے یہ نہیں کہا جاتا کہ میں نے ان شاء اللہ فاتحہ پڑھی؛ وہ استثنا کرنے والوں کو شکاکہ کہتے ہیں۔

بنیاد: مجموعة الفتاوى لابن تيمية، اعتنى بها عامر الجزار وأنور الباز، المجلد السابع (الإيمان)، دار الوفاء، الطبعة الأولى 1418هـ/1997م vol. 7, scan pp. 269–270

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

أهل القبلة وعدم التكفير بالذنب· الغيبة· علم الكلام· الإمامة· عصمة الأئمة عند الشيعة الإمامية· المهدية· الرجعة· التبري من الصحابة عند الشيعة الإمامية

ماخذ

  1. الإبانة عن شريعة الفرقة الناجية لابن بطة، كتاب الإيمان، تحقيق رضا بن نعسان معطي (دار الراية) , p. 862
  2. الإبانة عن شريعة الفرقة الناجية لابن بطة، كتاب الإيمان، تحقيق رضا بن نعسان معطي (دار الراية) , p. 863
  3. الإبانة عن شريعة الفرقة الناجية لابن بطة، كتاب الإيمان، تحقيق رضا بن نعسان معطي (دار الراية) , p. 864
  4. الإبانة عن شريعة الفرقة الناجية لابن بطة، كتاب الإيمان، تحقيق رضا بن نعسان معطي (دار الراية) , p. 137
  5. الإبانة عن شريعة الفرقة الناجية لابن بطة، كتاب الإيمان، تحقيق رضا بن نعسان معطي (دار الراية) , p. 138
  6. الإبانة عن شريعة الفرقة الناجية لابن بطة، كتاب الإيمان، تحقيق رضا بن نعسان معطي (دار الراية) , p. 139
  7. مجموعة الفتاوى لابن تيمية، اعتنى بها عامر الجزار وأنور الباز، المجلد السابع (الإيمان)، دار الوفاء، الطبعة الأولى 1418هـ/1997م , p. 269
  8. مجموعة الفتاوى لابن تيمية، اعتنى بها عامر الجزار وأنور الباز، المجلد السابع (الإيمان)، دار الوفاء، الطبعة الأولى 1418هـ/1997م , p. 270
  9. مجموعة الفتاوى لابن تيمية، اعتنى بها عامر الجزار وأنور الباز، المجلد السابع (الإيمان)، دار الوفاء، الطبعة الأولى 1418هـ/1997م , p. 271
  10. مجموعة الفتاوى لابن تيمية، اعتنى بها عامر الجزار وأنور الباز، المجلد السابع (الإيمان)، دار الوفاء، الطبعة الأولى 1418هـ/1997م , p. 273
  11. مجموعة الفتاوى لابن تيمية، اعتنى بها عامر الجزار وأنور الباز، المجلد السابع (الإيمان)، دار الوفاء، الطبعة الأولى 1418هـ/1997م , p. 279
  12. مجموعة الفتاوى لابن تيمية، اعتنى بها عامر الجزار وأنور الباز، المجلد السابع (الإيمان)، دار الوفاء، الطبعة الأولى 1418هـ/1997م , p. 281
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “کیا مسلمان کہے: میں ان شاء اللہ مومن ہوں؟”. islam.museum، https://islam.museum/ur/questions/may-one-say-i-am-a-believer-god-willing/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

أهل القبلة وعدم التكفير بالذنب

al-Tahawi's principle of calling the people of the qibla Muslims and believers so long as they accept what the Prophet brought, and of not declaring any of them an unbeliever for a sin unless he declares it lawful.