صحیح الجامع الصغیر وزیادتہ (الفتح الکبیر)

الفاظ آج

مصنف محمد ناصر الدین الالبانی

صحيح الجامع الصغير وزيادته (الفتح الكبير)

محمد ناصر الدین البانی کی «الفتح الکبیر» کی تحقیق کا پہلا حصہ — نبہانی کا وہ مجموعہ جس میں سیوطی کی «الجامع الصغیر» اور اس کا ذیل «الزیادہ» ملائے گئے: اس میں وہ احادیث ہیں جنہیں البانی ثابت اور قابلِ حجت (صحیح و حسن) سمجھتے ہیں، حروفِ تہجی کی ترتیب پر، ہر حدیث کے نیچے ان کا حکم اور ان کی اس کتاب کا حوالہ جہاں انہوں نے اس کی تحقیق کی؛ اس کا ساتھی «ضعیف الجامع الصغیر وزیادتہ» ہے؛ تیسرے ایڈیشن میں اس کی احادیث 8231 ہیں، جن میں 3273 زیادہ سے ہیں 1 2 3۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر المعاصر
خطہ
levant-iraq

متنازع فیہ: اس مضمون میں ایسے امور شامل ہیں جن پر علماء کا اختلاف ہے۔ شیخ کی آراء ان کی اپنی قرار دی گئی ہیں، اور دیگر آراء پر، جہاں ابھی حوالہ موجود نہیں، نشان لگایا گیا ہے۔

scripture-and-its-sciences

خلاصہ

«صحیح الجامع الصغیر وزیادتہ (الفتح الکبیر)» ان دو کتابوں میں سے ایک ہے جن میں محمد ناصر الدین البانی نے الفتح الکبیر کی اپنی تحقیق شائع کی؛ یہ یوسف نبہانی کا وہ مجموعہ ہے جس میں سیوطی کی الجامع الصغیر اور اس کا ذیل «زیادۃ الجامع» ملائے گئے۔ 4 3 اس حصے میں وہ احادیث ہیں جنہیں البانی ثابت اور قابلِ حجت — صحیح و حسن — سمجھتے ہیں، اور اس کے ساتھی ضعیف الجامع الصغیر وزیادتہ میں وہ جو ان کے نزدیک قابلِ حجت نہیں۔ 3

یہ کتاب کیوں

البانی اپنے مقدمے میں «الجامع الصغیر» کو مواد کے لحاظ سے جامع ترین اور ترتیب میں آسان ترین کتب میں شمار کرتے ہیں، اسی لیے اس کے بہت سے ایڈیشن اور شروح ہوئیں، لیکن ان کے نزدیک اس میں تین کمیاں ہیں: بہت سی احادیث، حتیٰ کہ کتبِ ستہ کی بھی، اس سے رہ گئیں؛ حروفِ تہجی کی ترتیب پوری طرح ملحوظ نہیں رہی؛ اور ان کی رائے میں اس میں ہزاروں ضعیف اور منکر احادیث ہیں جن میں سینکڑوں موضوع اور باطل ہیں۔ 5 وہ کہتے ہیں کہ پہلی کمی سیوطی نے خود «الزیادہ» سے پوری کی، دوسری نبہانی نے «الفتح الکبیر» میں؛ اور تیسری، جو ان کے نزدیک سب سے اہم ہے، ان کے علم میں کسی نے پوری نہیں کی، سوائے مناوی کے جزوی طور پر فیض القدیر میں، جو نہ سب احادیث کا احاطہ کرتی ہے نہ زیادہ کا۔ 6

رموز

البانی کے نزدیک احادیث کے آخر میں صحت، حسن اور ضعف کے لیے سیوطی کے رموز پر اعتماد جائز نہیں، اور وہ تین جواب دیتے ہیں: رموز میں نساخ اور طابعین سے تحریف ہوئی، جس پر وہ مناوی کا کلام نقل کرتے ہیں؛ بعض رموز نقل میں گر گئے اور بعض مصنف کے نسخے کے خلاف بڑھا دیے گئے؛ اور اگر رموز ان سب سے محفوظ بھی ہوں تو ان کی رائے میں سیوطی تصحیح و تحسین میں تساہل کے لیے معروف ہیں۔ 7 8 وہ ایسی مثالیں دیتے ہیں جہاں نسخے کا رمز اسی حدیث پر مناوی کے اپنے قول کے خلاف ہے۔ 9 رموز کے اس اضطراب کی وجہ وہ کتاب کی شہرت اور ان بہت سے نساخ کو بتاتے ہیں جنہوں نے مصنف کے اصل سے مقابلہ نہیں کیا، بخلاف قدیم نساخ کے۔ 8

ان کے بقول انصاف کا تقاضا ہے کہ کہا جائے: سیوطی نے محدثین کے قاعدے «پہلے جمع کرو، پھر جانچو» پر عمل کیا، جمع تو کیا مگر ہر حدیث کی تحقیق کا موقع نہ ملا، اور دوسری کتابوں میں، جیسے «ذیل الاحادیث الموضوعۃ»، انہوں نے خود ان میں سے بہت سی کو موضوع کہا۔ 10

منہج

البانی کہتے ہیں کہ انہوں نے «الفتح الکبیر» کو اپنی فہرست بنایا، اور اپنی کتب میں جس حدیث کی تخریج کی اس پر اپنے حکم کا خلاصہ اس میں درج کرتے رہے، یوں معلوم ہوا کہ کتاب کا تقریباً ایک تہائی بلکہ نصف اسی طرح تحقیق ہو چکا تھا؛ نیز انہوں نے چالیس سے زائد جلدوں سے مدد لی جو انہوں نے مکتبہ ظاہریہ دمشق، مکتبہ اوقاف حلب، اور مدینہ کی مکتبہ محمودیہ اور مکتبہ عارف حکمت کے مخطوطات سے اپنے ہاتھ سے نقل کی تھیں۔ 11 ہر حدیث کے نیچے انہوں نے پانچ درجوں میں سے ایک لکھا: صحیح، حسن، ضعیف، ضعیف جداً، موضوع، اور اپنی اس کتاب کا حوالہ جہاں اس پر کلام کیا، جیسے دونوں «سلسلے» اور «ارواء الغلیل»۔ 2 جہاں سیوطی نے حدیث کو صحیحین کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کیا حالانکہ وہ ان میں ہے، یا کسی کم درجے کے مصنف کی طرف، وہاں انہوں نے درجے کے بعد رمز کا اضافہ کیا۔ 12

پہلے ارادہ تھا کہ «الفتح الکبیر» کو جوں کا توں تحقیق کے ساتھ چھاپا جائے، پھر انہوں نے اسے دو کتابوں میں تقسیم کرنا بہتر سمجھا، تاکہ قاری صرف یہ یاد رکھ کر کہ حدیث کس کتاب میں پڑھی تھی اس کا اجمالی درجہ جان لے — ان کی پیروی میں جنہوں نے صحیح احادیث جمع کیں، جیسے بخاری، مسلم، ابن خزیمہ اور ابن حبان، اور جنہوں نے ضعیف و موضوع پر لکھا، جیسے ابن الجوزی اور شوکانی۔ 13

طباعت اور تعداد

ناشر زہیر شاویش نے 1388ھ میں دمشق میں اسے چھوٹے اجزاء میں چھاپنا شروع کیا، ان مسودات سے جو البانی نے طباعت کے لیے تیار نہیں کیے تھے، پھر اصلاحات اور اضافوں کے ساتھ دوبارہ شائع کیا اور یکم رمضان 1405ھ کو نئے ایڈیشن کا مقدمہ لکھا۔ 14 1 ان کے مطابق «صحیح الجامع الصغیر» کی احادیث 8231 ہیں، جن میں 3273 زیادہ سے ہیں، اور پوری «الفتح الکبیر» کی 14700۔ 1 وہ بتاتے ہیں کہ حدیث «اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے» کتاب میں نہیں کیونکہ نبہانی نے سیوطی کا مقدمہ حذف کر دیا جس میں یہ تھی، اور جامع کے مخطوطات میں سے بعض اسے مقدمے کے آخر میں رکھتے ہیں اور بعض نہیں۔ 15

کتب خانے میں طبع

المکتب الاسلامی، تیسرا تجدید شدہ، اضافہ شدہ اور نظرِ ثانی شدہ ایڈیشن، 1408ھ/1988ء۔ 16

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Mentioned in
ضعیف الجامع الصغیر وزیادتہ (الفتح الکبیر)
Relies on
الفتح الکبیر فی ضم الزیادۃ الی الجامع الصغیر· فیض القدیر شرح الجامع الصغیر· سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ وشیء من فقہہا وفوائدہا
Critic of
الجامع الصغیر من حدیث البشیر النذیر

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

الفتح الکبیر فی ضم الزیادۃ الی الجامع الصغیر· الجامع الصغیر من حدیث البشیر النذیر· ضعیف الجامع الصغیر وزیادتہ (الفتح الکبیر)· فیض القدیر شرح الجامع الصغیر· محمد بن إسحاق بن خزيمة النيسابوري· الخلافة الراشدة وترتيبها (في العقيدة الطحاوية)· توسل· فتح القسطنطينية سنة 857هـ

ماخذ

  1. صحيح الجامع الصغير وزيادته (الفتح الكبير) — محمد ناصر الدين الألباني، أشرف على طبعه زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، الطبعة الثالثة 1408هـ/1988م , p. 10
  2. صحيح الجامع الصغير وزيادته (الفتح الكبير) — محمد ناصر الدين الألباني، أشرف على طبعه زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، الطبعة الثالثة 1408هـ/1988م , p. 18
  3. صحيح الجامع الصغير وزيادته (الفتح الكبير) — محمد ناصر الدين الألباني، أشرف على طبعه زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، الطبعة الثالثة 1408هـ/1988م , p. 32
  4. صحيح الجامع الصغير وزيادته (الفتح الكبير) — محمد ناصر الدين الألباني، أشرف على طبعه زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، الطبعة الثالثة 1408هـ/1988م , p. 14
  5. صحيح الجامع الصغير وزيادته (الفتح الكبير) — محمد ناصر الدين الألباني، أشرف على طبعه زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، الطبعة الثالثة 1408هـ/1988م , p. 12-13
  6. صحيح الجامع الصغير وزيادته (الفتح الكبير) — محمد ناصر الدين الألباني، أشرف على طبعه زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، الطبعة الثالثة 1408هـ/1988م , p. 13-14
  7. صحيح الجامع الصغير وزيادته (الفتح الكبير) — محمد ناصر الدين الألباني، أشرف على طبعه زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، الطبعة الثالثة 1408هـ/1988م , p. 21-22
  8. صحيح الجامع الصغير وزيادته (الفتح الكبير) — محمد ناصر الدين الألباني، أشرف على طبعه زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، الطبعة الثالثة 1408هـ/1988م , p. 25
  9. صحيح الجامع الصغير وزيادته (الفتح الكبير) — محمد ناصر الدين الألباني، أشرف على طبعه زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، الطبعة الثالثة 1408هـ/1988م , p. 23
  10. صحيح الجامع الصغير وزيادته (الفتح الكبير) — محمد ناصر الدين الألباني، أشرف على طبعه زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، الطبعة الثالثة 1408هـ/1988م , p. 28
  11. صحيح الجامع الصغير وزيادته (الفتح الكبير) — محمد ناصر الدين الألباني، أشرف على طبعه زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، الطبعة الثالثة 1408هـ/1988م , p. 16-17
  12. صحيح الجامع الصغير وزيادته (الفتح الكبير) — محمد ناصر الدين الألباني، أشرف على طبعه زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، الطبعة الثالثة 1408هـ/1988م , p. 19
  13. صحيح الجامع الصغير وزيادته (الفتح الكبير) — محمد ناصر الدين الألباني، أشرف على طبعه زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، الطبعة الثالثة 1408هـ/1988م , p. 32-33
  14. صحيح الجامع الصغير وزيادته (الفتح الكبير) — محمد ناصر الدين الألباني، أشرف على طبعه زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، الطبعة الثالثة 1408هـ/1988م , p. 5-6
  15. صحيح الجامع الصغير وزيادته (الفتح الكبير) — محمد ناصر الدين الألباني، أشرف على طبعه زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، الطبعة الثالثة 1408هـ/1988م , p. 9-10
  16. صحيح الجامع الصغير وزيادته (الفتح الكبير) — محمد ناصر الدين الألباني، أشرف على طبعه زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، الطبعة الثالثة 1408هـ/1988م , p. 4
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “صحیح الجامع الصغیر وزیادتہ (الفتح الکبیر)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/sahih-al-jami-al-saghir/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

الفاظ

قرآن، حدیث، شاعری، اور مسلم اقوام کی زبانیں اور رسم الخط۔
متعلقہ

الفتح الکبیر فی ضم الزیادۃ الی الجامع الصغیر

یوسف نبہانی کی کتاب جس میں انہوں نے سیوطی کی «الجامع الصغیر» کو اس کے ذیل «زیادۃ الجامع» کے ساتھ ملا کر پہلے لفظ اور اس کے بعد کے حروف کے لحاظ سے حروفِ تہجی پر ترتیب دیا، زیادہ کی احادیث پر حرف (ز) لگایا، اور جو اصل میں بعینہ مکرر تھیں انہیں حذف کیا، اور چھ فوائد پر مشتمل مقدمہ لکھا؛ یہی وہ اصل ہے جس کی البانی نے تحقیق کر کے اسے «صحیح الجامع الصغیر» اور «ضعیف» میں تقسیم کیا ۔