ایک نظر میں
- خطہ
- americas-oceania
وقت میں
scripture-and-its-sciencestranslation-and-transmissionwomen
عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں
خلاصہ
ناشر
اسے 2007 کے اوائل میں شکاگو کی کازی پبلیکیشنز نے شائع کیا جہاں بختیار 1992 سے محقق اور پروڈکشن منیجر تھیں؛ نیویارک ٹائمز، سی این این، الجزیرہ اور بی بی سی نے اس پر خبریں دیں، اور روایت پسندوں نے اعتراض کیا کہ وہ قرآن کی عالمہ نہیں۔ 2
طریقہ اور پذیرائی
بختیار کے مطابق ان کا طریقہ عربی جڑوں کے اشاریے پر مبنی ہے، تفاسیر سے آزاد اور بغیر حواشی کے، اور وہ اللہ کے لیے God کا لفظ استعمال کرتی ہیں۔ 1 جامعہ لیسٹر کے شیام خان کے نزدیک الفاظ کو سیاق سے الگ کرنے سے مبہم تراجم اور لسانی غلطیاں پیدا ہوئیں، اور خالد ابو الفضل نے کہا کہ بختیار مدیر کے طور پر معروف ہیں، عالم کے طور پر نہیں۔ 1
بعد کی اشاعتیں
یہی متن 2015 اور 2016 میں نئی صورتوں میں شائع ہوا؛ بختیار نے 2020 میں وفات پائی۔ 1
حوالہ جات
- شیام خان، «ہفتے کا ترجمۂ قرآن #157»، 2023۔ 1
تعلقات
- Translation of
- القرآن
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
سورة الفاتحة· سورة يونس· سورة العاديات· سورة القارعة· سورة التكاثر· سورة الهمزة· سورة الماعون· سورة هود
ماخذ
- GloQur, Qur'an translation of the week #157 (Khan Sheam, 2023)
- The National, 'Islamic publishing house flourishes in US' (David Lepeska, about 2011)
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “دی سبلائم قرآن (لیلیٰ بختیار)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/sublime-quran-bakhtiar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-06.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON