ایک نظر میں
- کردار
- تاجر · explorer
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
حمد بن محمد بن جمعہ بن رجب بن محمد بن سعید المرجبی (1837–1905)، جو عمر بھر ٹیپو ٹپ کے نام سے مشہور رہے، زنجبار کے ہاتھی دانت اور غلاموں کے تاجر، باغات کے مالک، مہم جو اور گورنر تھے جنہوں نے زنجبار کے یکے بعد دیگرے کئی سلاطین کے لیے کام کیا۔ 1 2 وہ وسطی افریقہ کے اندرونی علاقوں تک مہمات لے گئے، کانگو کے طاس میں تجارتی مراکز قائم کیے، اور مشرقی کانگو کے بڑے علاقے پر عملاً حکمران رہے جبکہ سلطان زنجبار کے وفادار رہے۔ 2 ان کی دولت دو جڑواں تجارتوں پر قائم تھی: ہاتھی دانت، جو قافلوں کے ذریعے ساحل تک پہنچتا تھا، اور غلام، جو اندرونی علاقوں میں چھاپوں اور جنگوں سے حاصل کر کے جزیرے کے لونگ کے باغات اور بیرونی خریداروں کے لیے فروخت کیے جاتے تھے۔ 2 3
زندگی اور کارنامے
وہ زنجبار میں پیدا ہوئے، غالباً 1837 میں، اگرچہ ذرائع میں سال کی بابت اختلاف ہے: انگریزی مضمون کی تمہید تقریباً 1832 بتاتی ہے اور عربی روایت 1248ھ دیتی ہے۔ 2 3 بریٹانیکا کے مطابق ان کی پہلی تجارتی مہم 1850 کی دہائی کے آخر یا 1860 کی دہائی کے آغاز میں ہوئی، اور 1860 کی دہائی کے آخر تک وہ چار ہزار افراد کی مہمات کی قیادت کرنے لگے تھے؛ انہوں نے مشرقی کانگو میں ایک ریاست قائم کی اور 1875 میں کاسونگو میں مقیم ہوئے۔ 4 مورخ عبد الشریف کے مطابق جب انہوں نے اندرونی علاقے میں اپنی سلطنت سازی کے بارہ سال شروع کیے تو ان کے پاس کوئی باغ نہیں تھا، مگر 1895 تک ان کے پاس سات باغات اور دس ہزار غلام تھے۔ 2 انہوں نے لیونگسٹن اور اسٹینلے جیسے یورپی مہم جوؤں کی مدد کی، اور 1884 سے 1887 تک مشرقی کانگو پر اپنے اور سلطان برغش کے نام پر دعویٰ کیا۔ 2
فروری 1887 میں انہوں نے کانگو فری اسٹیٹ کے اسٹینلے فالز ضلع کی گورنری قبول کی، لیکن یہ منصب ناممکن ثابت ہوا: یورپی ان سے عرب تاجروں کو قابو میں رکھنے کی توقع رکھتے تھے مگر ضروری اسلحہ نہیں دیتے تھے، اور بہت سے عرب ان کے یورپی اتحاد سے ناراض تھے؛ اپریل 1890 میں وہ آخری بار فالز سے روانہ ہوئے۔ 4 2 ان کے بیٹے سیف بن حامد نے 1892 میں بیلجیمی ہاتھی دانت کے تاجروں پر حملہ کیا، شکست کھائی اور 20 اکتوبر 1893 کو مارے گئے۔ 2
وفات اور سوانح
وہ 1891 میں زنجبار واپس آ کر گوشہ نشین ہو گئے اور سلطان حمود بن محمد کے قریبی مشیر بنے۔ 2 وہیں انہوں نے اپنی سوانح لکھوائی — سواحلی زبان کی پہلی خود نوشت — جسے ہائنرش بروڈے نے رومن رسم الخط میں نقل کر کے جرمن میں ترجمہ کیا؛ انگریزی ایڈیشن 1907 میں لندن سے شائع ہوا۔ 2 ان کا انتقال زنجبار کے اسٹون ٹاؤن میں اپنے گھر پر ہوا؛ انگریزی مضمون کے متن کے مطابق ملیریا سے 13 جون 1905 کو، جبکہ اس کے معلوماتی خانے، عربی و اردو مضامین اور بریٹانیکا کے مطابق 14 جون 1905 کو۔ 2 3 1 4
جائزے اور نقد
یہ حصہ مختلف جائزے ذرائع کی زبانی پیش کرتا ہے؛ یہ ان کے بارے میں عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔ بریٹانیکا کا حکم ہے کہ ہاتھی دانت کی تجارت ہی ان کی اصل دلچسپی رہی اور ریاست سازی اس کا ذریعہ تھی۔ 4 جدید تحقیق ان کی دولت کی انسانی بنیاد گنتی ہے: عبد الشریف کے حساب سے آغاز میں کوئی باغ نہیں، اور 1895 تک سات باغات اور دس ہزار غلام۔ 2 عربی مضمون ان کا پیشہ صراحتاً «نخّاس» (غلاموں کا تاجر) لکھتا ہے۔ 3
حوالہ جات
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
عبید کرومی· علی بن سعید· علی حسن موینی· امانی عبید کرومی· سلمہ بنت سعید (ایملی روئٹے)· حسین مونی· ماجد بن سعید· سعید بن سلطان
ماخذ
- Tippu Tip — Urdu Wikipedia
- Tippu Tip — English Wikipedia
- Tippu Tip — Arabic Wikipedia
- Tippu Tib — Encyclopaedia Britannica
- Tippu Tip — Wikidata Q458421
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ٹیپو ٹپ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/tippu-tip/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.