نقدی کا کساد اور قیمت کی تبدیلی

كساد النقود وتغيّر قيمتها

اگر بیع یا قرض فلوس (تانبے کے سکوں) یا ایسے دراہم میں ہو جن میں کھوٹ غالب ہو، اور ادائیگی سے پہلے وہ چلنا بند ہو جائیں، ناپید ہو جائیں، یا ان کی قیمت بڑھ یا گھٹ جائے، تو حنفی ائمہ میں اختلاف ہے کہ کیا واجب ہے۔ ابن عابدین رد المحتار میں امام ابو حنیفہ کا قول بیان کرتے ہیں کہ کساد سے بیع باطل ہو جاتی ہے، امام ابو یوسف کا قول کہ بیع یا قرض کے دن کی قیمت واجب ہے اور اسی پر فتویٰ ہے، اور امام محمد کا قول کہ لوگوں کے ان سے لین دین کے آخری دن کی قیمت؛ ان کی رائے میں یہ اختلاف صرف فلوس اور کھوٹ غالب دراہم میں ہے، خالص سونے چاندی میں نہیں؛ اور وہ اپنے رسالے تنبیہ الرقود فی احکام النقود کا حوالہ دیتے ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global

trade-and-financelaw-and-courts

خلاصہ

رد المحتار کی کتاب البیوع میں ابن عابدین ایک مطلب قائم کرتے ہیں جسے وہ «نقدی کے احکام میں اہم، جب وہ کاسد ہو جائے، ناپید ہو جائے، مہنگی یا سستی ہو جائے» کہتے ہیں، اور بتاتے ہیں کہ یہ کثرت سے پیش آتا ہے۔ 1 مسئلہ یہ ہے: کسی نے فلوس یا کھوٹ غالب دراہم سے خریداری کی، یا انہیں قرض لیا، پھر ادائیگی سے پہلے ان کی حالت بدل گئی۔ 1

اصطلاحات

کساد یہ ہے کہ لوگ تمام شہروں میں اس سکے سے لین دین چھوڑ دیں؛ اگر صرف بعض میں چھوڑا جائے تو بیع باطل نہیں ہوتی، البتہ اگر ان کے شہر میں نہ چلے تو سکہ عیب دار ہو جاتا ہے اور بیچنے والے کو اختیار ہوتا ہے۔ 1 انقطاع، جیسا کہ الہدایہ میں ہے، یہ ہے کہ بازار میں نہ ملے اگرچہ صرافوں کے پاس اور گھروں میں ملتا ہو؛ بہت سی کتابوں میں اس کا حکم کساد جیسا ہے۔ 1 مہنگا اور سستا ہونا یہ ہے کہ سکہ چلتا رہے مگر قیمت بدل جائے۔ 1 «عدالی» کھوٹ والے دراہم ہیں، اور طبری اور یزیدی دراہم وہ ہیں جن میں کھوٹ غالب ہے اس لیے وہ فلوس کے حکم میں ہیں، جیسا کہ وہ البنایہ اور غایۃ البیان سے نقل کرتے ہیں۔ 1

حنفی ائمہ کے اقوال

وہ غایۃ البیان میں ابو الحسن سے نقل کرتے ہیں کہ کاسد ہو جانے والے فلوس کے قرض میں امام ابو حنیفہ سے روایت مختلف نہیں کہ اس پر ان کی مثل واجب ہے، اور امام ابو یوسف نے کھوٹ غالب دراہم کو فلوس پر قیاس کیا۔ 1 ابن عابدین کی رائے میں مصنف کا فصلِ قرض میں یہ کہنا کہ جس نے رائج فلوس قرض لیے پھر وہ کاسد ہو گئے تو اس پر کاسد ہی کی مثل ہے، امام کے قول پر مبنی ہے۔ 1

خالص سونا اور چاندی

ابن عابدین طے کرتے ہیں کہ مذکورہ اختلاف صرف فلوس اور کھوٹ غالب دراہم میں ہے؛ انہوں نے خالص یا کم کھوٹ والے دراہم کے حکم کی تصریح کسی سے نہیں دیکھی، اور ان کی رائے میں اس میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے کساد سے بیع باطل نہیں ہوتی اور کساد، انقطاع، سستی اور مہنگائی میں خریدار پر ان کی مثل واجب ہے، کیونکہ وہ خلقتاً ثمن ہیں اور ان سے لین دین چھوڑنا ان کی ثمنیت ختم نہیں کرتا، جیسے سو متعین سونے کے سکے یا سو فرنگی ریال۔ 1 مکمل وضاحت کے لیے وہ اپنے رسالے «تنبیہ الرقود فی احکام النقود» کا حوالہ دیتے ہیں۔ 1

شارح سے ان کی بحث

ابن عابدین شارح کے اس قول پر اعتراض کرتے ہیں کہ ان کی قیمت سونے میں واجب ہے، کیونکہ ان کی مثلیت ختم نہیں ہوئی تو قیمت کی طرف عدول نہیں کیا جاتا؛ اور ان کی رائے میں سلطان کا آئندہ ان سے لین دین روکنا ماضی میں ان میں واجب شدہ کے حکم کو نہیں روکتا۔ 1 وہ وضاحت کرتے ہیں کہ خریدار کو نئے سکے میں قیمت دینے کا پابند کیوں نہیں کیا جاتا: رائج چاندی کی قیمت کاسد سے زیادہ لگتی ہے، تو اگر کاسد کے دس رائج کے نو کے برابر ہوں تو نو کا پابند کرنے میں ربا لازم آتا ہے اور دس کا پابند کرنے میں خریدار کا نقصان؛ اس لیے شارح نے سونے میں قیمت کا پابند کیا، جس پر ابن عابدین بحث کرتے ہیں۔ 1

ان کے زمانے کا عرف

وہ ذکر کرتے ہیں کہ قروش سے ہونے والی خریداری کا حکم باقی ہے، «جیسا کہ ہمارے زمانے کا عرف ہے»، جسے وہ قریب ہی بیان کرتے ہیں۔ 1 فقہ میں نقدی کا عام مدخل: نقود۔

سوال پر آراء

سوال: اگر ادائیگی سے پہلے فلوس کا چلن ختم ہو جائے یا ان کی قیمت بدل جائے تو خریدار یا قرض دار پر کیا واجب ہے؟

پہلی رائے · اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · Sunni — اہل سنت، حنفیہ: امام ابو یوسف کا آخری قول، اور اسی پر فتویٰ ہےبنیادی حوالہ

مدیون پر بیع یا قرض کے دن دراہم میں ان کی قیمت واجب ہے، اور کساد، انقطاع، مہنگائی اور سستی میں کوئی فرق نہیں؛ ابن عابدین البزازیہ، الذخیرہ اور الخلاصہ سے نقل کرتے ہیں کہ فتویٰ اسی پر ہے، اور کہتے ہیں کہ جب بہت سی معتبر کتابوں میں اس پر فتویٰ کی تصریح ہے تو فتویٰ اور قضا میں اسی پر اعتماد واجب ہے، اور انہوں نے کسی کو امام کے قول پر فتویٰ دیتے نہیں دیکھا۔ 1
مزید آراء (2)

اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · Sunni — اہل سنت، حنفیہ: امام ابو حنیفہ کا قولبنیادی حوالہ

اگر حوالگی سے پہلے کاسد ہو جائیں تو بیع باطل ہے، اور خریدار پر لازم ہے کہ چیز موجود ہو تو واپس کرے، اور ہلاک ہو گئی ہو تو اس کی مثل یا قیمت دے؛ اور اگر مہنگی یا سستی ہو جائیں تو اس پر وہی سکے ہیں، اور یہی امام ابو یوسف کا پہلا قول تھا۔ بیع کے بطلان کی علت یہ بیان کی جاتی ہے کہ کھوٹ غالب دراہم صرف اصطلاح سے ثمن بنے تھے؛ جب لوگوں نے ان سے لین دین چھوڑ دیا تو اصطلاح باطل ہو گئی اور بیع بغیر ثمن کے رہ گئی۔ 1

اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · Sunni — اہل سنت، حنفیہ: امام محمد بن الحسن کا قولبنیادی حوالہ

ان کے چلن کے آخری دن، یعنی لوگوں کے لین دین کے آخری دن کی قیمت واجب ہے، جیسا کہ غایۃ البیان اور الذخیرہ سے منقول ہے۔ 1

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Ruled on by
رد المحتار علی الدر المختار
Part of
الفقه

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

بیعِ استجرار (کھاتے پر خریداری)· بیعِ تعاطی (عملی لین دین سے بیع)· مجرد حقوق کا عوض اور مال کے بدلے وظائف سے دست برداری· بغاۃ (امام کے خلاف خروج کرنے والے)· عتق (غلام کی آزادی)· کاری گروں کا ضمان (اجیرِ مشترک کی ذمہ داری)· ایک گواہ اور مدعی کی قسم پر فیصلہ· ابن عابدين

ماخذ

  1. ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، جلد چہارم (بولاق، 1271ھ) , p.31
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “نقدی کا کساد اور قیمت کی تبدیلی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/kasad-al-nuqud/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

بیعِ استجرار (کھاتے پر خریداری)

بیعِ استجرار یہ ہے کہ آدمی دکاندار سے عادت کے مطابق اپنی ضرورت کی چیز تھوڑی تھوڑی لیتا رہے، جیسے دال، نمک، تیل یا روٹی، اور بعد میں حساب کرے۔ ابن عابدین رد المحتار میں القنیہ سے اس کا جواز نقل کرتے ہیں اگرچہ یہ معدوم کی بیع کی صورت ہے، اور صاحبِ النہر اور حموی کا اعتراض بھی؛ ان کی اپنی رائے میں یہ مسئلہ استحسان پر مبنی ہے، اور وہ لیتے وقت معلوم قیمت والی اور نامعلوم قیمت والی چیزوں میں فرق کرتے ہیں۔