بغاۃ (امام کے خلاف خروج کرنے والے)

خیالات زمانہ

البغاة (أهل البغي)

بغی کا لغوی معنی طلب ہے، پھر یہ ناجائز چیز، ظلم اور زیادتی کی طلب کے لیے مشہور ہو گیا؛ فقہاء کے عرف میں باغی وہ ہے جو امامِ حق کے خلاف خروج کرے۔ ابن عابدین رد المحتار میں امام کی اطاعت سے نکلنے والوں کی تین قسمیں کرتے ہیں: راہزن، بغاۃ اور خوارج، اور ان میں طاقت، تاویل اور مسلمانوں کا خون حلال سمجھنے کی بنیاد پر فرق کرتے ہیں؛ وہ نقل کرتے ہیں کہ جمہور فقہاء اور محدثین کے نزدیک خوارج کا حکم بغاۃ کا حکم ہے، اور اپنے زمانے سے ایک مثال دیتے ہیں: ایک تحریک کے پیروکار جو نجد سے نکلے اور حرمین پر غالب آئے یہاں تک کہ 1233ھ میں ان پر قابو پایا گیا؛ یہ توصیف انہی کی ہے اور انہی کی طرف منسوب ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global

متنازع فیہ: اس مضمون میں ایسے امور شامل ہیں جن پر علماء کا اختلاف ہے۔ شیخ کی آراء ان کی اپنی قرار دی گئی ہیں، اور دیگر آراء پر، جہاں ابھی حوالہ موجود نہیں، نشان لگایا گیا ہے۔

law-and-courtspolitics-governance-and-authority

خلاصہ

باب البغاۃ رد المحتار کی جلد سوم میں کتاب الجہاد کا ایک باب ہے؛ اس میں ابن عابدین بغی کی تعریف کرتے ہیں، بغاۃ کو راہزنوں اور خوارج سے الگ کرتے ہیں، اور بتاتے ہیں کہ امام کیسے امام بنتا ہے اور کب معزول ہوتا ہے۔ 1 2 3

کتاب میں اس کا مقام

ابن عابدین کہتے ہیں کہ یہ باب بعد میں اس لیے رکھا گیا کہ بغاۃ کم پائے جاتے ہیں، اور کفار سے قتال کے بعد ان مسلمانوں کا حکم بتانے کے لیے جن سے قتال کیا جاتا ہے؛ اسے الگ کتاب نہیں بنایا تاکہ اشارہ ہو کہ یہ جہاد کے تحت ہے، کیونکہ ان سے لڑائی اللہ کی راہ میں ہے، اسی لیے ان کے ہاتھوں مارا جانے والا اہلِ عدل شہید ہے؛ ان کے نزدیک جہاد کفار سے لڑائی کے ساتھ خاص نہیں۔ 2

لغت اور اصطلاح میں معنی

وہ فتح القدیر سے نقل کرتے ہیں کہ بغی کا لغوی معنی طلب ہے، پھر عرف میں ناجائز چیز، ظلم اور زیادتی کی طلب کے لیے مشہور ہوا، اور فقہاء کے عرف میں باغی وہ ہے جو امامِ حق کے خلاف خروج کرے۔ 2 وہ فتح القدیر کے اس قول پر بحث کرتے ہیں کہ یہ معنی صرف عرفی ہے، اور المصباح اور القاموس سے نقل کرتے ہیں کہ لوگوں پر بغی ظلم اور زیادتی ہے اور «فئہ باغیہ» وہ ہے جو امامِ عادل کی اطاعت سے نکل جائے؛ اس لیے ان کے نزدیک ظلم کا معنی لغوی بھی ہے۔ 2

خروج کرنے والوں کی تین قسمیں

وہ امام کی اطاعت سے نکلنے والوں کی تین قسمیں کرتے ہیں: راہزن، بغاۃ اور خوارج۔ 2 راہزن دو طرح کے ہیں: وہ جو کسی تاویل کے بغیر، طاقت کے ساتھ یا اس کے بغیر، نکلیں، مسلمانوں کا مال لیں، انہیں قتل کریں اور راستے غیر محفوظ کریں؛ اور وہ جو اسی طرح نکلیں، تاویل رکھتے ہوں مگر طاقت نہ رکھتے ہوں؛ فتح القدیر نے چار قسمیں شمار کی ہیں۔ 2 بغاۃ وہ مسلمان ہیں جو تاویل کی بنیاد پر امامِ عادل کے خلاف نکلیں اور وہ چیز حلال نہ سمجھیں جو خوارج نے حلال سمجھی، یعنی مسلمانوں کا خون اور ان کی اولاد کو قید کرنا؛ ورنہ وہ راہزن ہیں۔ 2 وہ الاختیار سے نقل کرتے ہیں کہ اہلِ بغی ہر وہ گروہ ہے جو طاقت رکھتا ہو، غلبہ پائے، جمع ہو اور تاویل کی بنیاد پر اہلِ عدل سے لڑے، کہے کہ حق ہمارے ساتھ ہے اور ولایت کا دعویٰ کرے۔ 2 ان کے نزدیک خوارج وہ لوگ ہیں جو طاقت رکھتے ہیں اور ایسی تاویل سے نکلتے ہیں جس سے وہ امام کو باطل، کفر یا معصیت پر سمجھتے ہیں، اور اس بنا پر مسلمانوں کا خون اور مال حلال جانتے ہیں؛ ان کی اصل وہ لوگ ہیں جو تحکیم کے بعد علی بن ابی طالب کے لشکر سے نکل گئے اور کہا کہ حکم صرف اللہ کا ہے، کبیرہ کا مرتکب کافر ہے اور تحکیم کبیرہ گناہ ہے۔ 4

وہ بعض مشایخ کا قول نقل کرتے ہیں کہ اگر علی نہ ہوتے تو اہلِ قبلہ سے لڑائی کا حکم معلوم نہ ہوتا، علی اور ان کے پیروکار اہلِ عدل تھے اور ان کے مخالف اہلِ بغی، اور ان کا یہ قول کہ ان کے زمانے میں فیصلہ غلبے کا ہے اور عادل اور باغی گروہ کا پتا نہیں چلتا۔ 2 وہ اس گروہ میں جو امام کے ظلم کی وجہ سے نکلے، جو باغی نہیں اور امام پر لازم ہے کہ ظلم چھوڑے اور انصاف کرے، اور اس گروہ میں جو حق اور ولایت کا دعویٰ کر کے نکلے، جو اہلِ بغی ہیں، فرق کرتے ہیں۔ 2 اگر وہ صرف خروج کی بات کریں اور ابھی پختہ ارادہ نہ کیا ہو تو امام ان سے تعرض نہیں کر سکتا، کیونکہ جرم کا عزم ابھی پایا نہیں گیا۔ 2

خوارج کی تکفیر میں اختلاف

مصنف کے زمانے کی ایک مثال

ابن عابدین کی رائے میں خوارج کہلانے کے لیے صحابہ کی تکفیر شرط نہیں، بلکہ یہ کافی ہے کہ وہ جن کے خلاف نکلیں انہیں کافر سمجھیں؛ مثال میں وہ اپنے زمانے کا واقعہ بیان کرتے ہیں جو «عبد الوہاب کے پیروکاروں» کے ساتھ پیش آیا، جیسا کہ فقرے کا کنارے کا عنوان انہیں کہتا ہے، جو نجد سے نکلے اور حرمین پر غالب آئے۔ 4 وہ ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ حنبلی مذہب کی طرف نسبت کرتے تھے مگر سمجھتے تھے کہ صرف وہی مسلمان ہیں اور ان کے عقیدے کے مخالف مشرک ہیں، اس لیے انہوں نے اہلِ سنت اور ان کے علماء سے لڑائی کو جائز سمجھا؛ اور بتاتے ہیں کہ 1233ھ میں مسلمانوں کی فوجوں نے ان پر قابو پایا اور ان کا علاقہ ویران ہوا۔ 4 سیاق، یعنی نجد سے خروج، حرمین پر غلبہ اور شکست کی تاریخ، بتاتا ہے کہ ان کی مراد محمد بن عبد الوہاب کے پیروکار اور وہ جنگ ہے جس پر پہلی سعودی ریاست ختم ہوئی (عثمانی سعودی جنگ)؛ یہ ربط سیاق کے بارے میں میوزیم کی قراءت ہے۔

یہ توصیف ابن عابدین کی توصیف اور حکم ہے؛ میوزیم اسے انہی کی طرف منسوب کر کے نقل کرتا ہے اور اسے اختیار نہیں کرتا۔

امام کیسے امام بنتا ہے

ابن عابدین کہتے ہیں کہ امام بیعت سے، سابق امام کی نامزدگی سے، یا غلبہ اور قہر سے امام بنتا ہے، جیسا کہ شرح المقاصد میں ہے؛ اور المسایرہ سے نقل کرتے ہیں کہ امامت کا عقد خلیفہ کی نامزدگی سے ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ ابو بکر نے کیا، یا علماء اور اہلِ رائے کی ایک جماعت کی بیعت سے۔ 3 وہ بیعت کے ساتھ رعیت میں اس کے حکم کے نفاذ کی شرط لگاتے ہیں، اور نقل کرتے ہیں کہ امام کی اطاعت واجب ہے، عادل ہو یا ظالم، جب تک وہ شریعت کی مخالفت نہ کرے۔ 3 وہ نقل کرتے ہیں کہ امامت کا عقد ان چیزوں سے باطل ہو جاتا ہے جن سے اس کا مقصد فوت ہو، جیسے ارتداد، دائمی جنون اور ایسی قید جس سے رہائی کی امید نہ ہو؛ اور اکثر کے نزدیک وہ فسق سے معزول نہیں ہوتا، جو امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کے مذہب میں مختار ہے، اور امام محمد سے دو روایتیں ہیں، البتہ بالاتفاق وہ معزولی کا مستحق ہو جاتا ہے۔ 3 اسی سیاق میں وہ حسن بن علی کی دست برداری کا ذکر کرتے ہیں۔ 3

جو یہاں ذکر نہیں ہوا

اس مرحلے میں باب کا باقی حصہ، یعنی ان سے لڑائی کا طریقہ اور ان کے اموال اور قیدیوں کے احکام، نہیں پڑھا گیا، اور دوسرے مذاہب کے اقوال ان کی اپنی کتابوں سے نقل نہیں ہوئے۔

سوال پر آراء

سوال: تاویل کی بنیاد پر امام کے خلاف خروج کرنے والوں کا کیا حکم ہے، اور کیا خوارج کی تکفیر کی جائے؟

پہلی رائے · اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · Sunni — اہل سنت، حنفیہ: جمہور کا قول، جیسا کہ ابن عابدین فتح القدیر سے نقل کرتے ہیںبنیادی حوالہ

جمہور فقہاء اور محدثین کے نزدیک خوارج کا حکم بغاۃ کا ہے اور ان کی تکفیر نہیں کی جاتی، کیونکہ ان کا خروج تاویل پر مبنی ہے اگرچہ باطل ہو؛ ابن عابدین کہتے ہیں کہ اس میں مجتہد فقہاء کا قول ہی معتبر ہے۔ 4
مزید آراء (5)

اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · Sunni — اہل سنت: بعض محدثین کا قول، جیسا کہ وہ نقل کرتے ہیںبنیادی حوالہ

بعض محدثین نے ان کی تکفیر کی، اور ابن المنذر نے کہا کہ انہیں کسی ایسے کا علم نہیں جس نے اس میں اہلِ حدیث کی موافقت کی ہو۔ 4

ابن عابدین کا اضافہ (ان کی رائے) نقطۂ نظردیگر رائے

وہ المسایرہ سے نقل کرتے ہیں کہ دین کے ضروری اصول کے منکر، جیسے عالم کو قدیم کہنے والے یا جسموں کے حشر کا انکار کرنے والے، کی تکفیر پر اتفاق ہے، اور اس سے کم میں اختلاف ہے؛ اور شرح منیۃ المصلی سے نقل کرتے ہیں کہ جو شبہ اور اجتہاد پر قول کی بنیاد رکھے اس کا حکم محض خواہشِ نفس سے کہنے والے سے مختلف ہے۔ 4

اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · Sunni — اہل سنت، حنفیہ: ابن عابدین کی رائے (انہی کی طرف منسوب)بنیادی حوالہ

یہ لوگ ان کے بیان کردہ معنی میں ان کے زمانے کے خوارج تھے، اور ان کا حکم بغاۃ کا ہے، کفار کا نہیں۔ 4

نجدی تحریک کے علماء اور مؤرخین کا موقف: ابھی منقول نہیں (needs_source) نقطۂ نظردیگر رائے

اس توصیف پر ان کا جواب اور واقعات کی ان کی روایت یہاں نقل نہیں ہوئی؛ ان کی اپنی کتابوں سے شامل کی جائے گی۔

علمی رائے: ابھی منقول نہیں (needs_source) نقطۂ نظردیگر رائے

تحریک کی تاریخ اور اس پر فقہی بحث کے کسی متعین مطالعے سے شامل کی جائے گی۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Ruled on by
رد المحتار علی الدر المختار
Part of
الفقه

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

بیعِ استجرار (کھاتے پر خریداری)· بیعِ تعاطی (عملی لین دین سے بیع)· عتق (غلام کی آزادی)· نقدی کا کساد اور قیمت کی تبدیلی· مجرد حقوق کا عوض اور مال کے بدلے وظائف سے دست برداری· ایک گواہ اور مدعی کی قسم پر فیصلہ· کاری گروں کا ضمان (اجیرِ مشترک کی ذمہ داری)· ابن عابدين

ماخذ

  1. ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، جلد سوم (اسکین) , p.11
  2. ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، جلد سوم (اسکین) , p.496
  3. ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، جلد سوم (اسکین) , p.498
  4. ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، جلد سوم (اسکین) , p.497
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “بغاۃ (امام کے خلاف خروج کرنے والے)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/baghy-fiqh/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

بیعِ استجرار (کھاتے پر خریداری)

بیعِ استجرار یہ ہے کہ آدمی دکاندار سے عادت کے مطابق اپنی ضرورت کی چیز تھوڑی تھوڑی لیتا رہے، جیسے دال، نمک، تیل یا روٹی، اور بعد میں حساب کرے۔ ابن عابدین رد المحتار میں القنیہ سے اس کا جواز نقل کرتے ہیں اگرچہ یہ معدوم کی بیع کی صورت ہے، اور صاحبِ النہر اور حموی کا اعتراض بھی؛ ان کی اپنی رائے میں یہ مسئلہ استحسان پر مبنی ہے، اور وہ لیتے وقت معلوم قیمت والی اور نامعلوم قیمت والی چیزوں میں فرق کرتے ہیں۔