بیعِ استجرار (کھاتے پر خریداری)

بيع الاستجرار

بیعِ استجرار یہ ہے کہ آدمی دکاندار سے عادت کے مطابق اپنی ضرورت کی چیز تھوڑی تھوڑی لیتا رہے، جیسے دال، نمک، تیل یا روٹی، اور بعد میں حساب کرے۔ ابن عابدین رد المحتار میں القنیہ سے اس کا جواز نقل کرتے ہیں اگرچہ یہ معدوم کی بیع کی صورت ہے، اور صاحبِ النہر اور حموی کا اعتراض بھی؛ ان کی اپنی رائے میں یہ مسئلہ استحسان پر مبنی ہے، اور وہ لیتے وقت معلوم قیمت والی اور نامعلوم قیمت والی چیزوں میں فرق کرتے ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global

trade-and-financelaw-and-courts

خلاصہ

بیعِ استجرار یہ ہے کہ آدمی عادت کے مطابق دکاندار سے اپنی ضرورت کی چیز تھوڑی تھوڑی لیتا رہے اور بعد میں حساب کرے۔ ابن عابدین رد المحتار میں یہ مسئلہ «مطلب فی بیع الاستجرار» کے عنوان سے بیان کرتے ہیں۔ 1

مشکل: معدوم کی بیع

وہ البحر سے نقل کرتے ہیں کہ معقود علیہ کی شرطوں میں سے ہے کہ وہ موجود ہو، اس لیے معدوم پر بیع منعقد نہیں ہوتی؛ پھر بتاتے ہیں کہ فقہاء نے ایک مسئلے میں نرمی کی اور اسے اس قاعدے سے نکال دیا، جو القنیہ میں ہے: وہ چیزیں جو عادت کے مطابق بغیر بیع کے خرچ کے طور پر دکاندار سے لی جاتی ہیں، جیسے دال، نمک اور تیل، پھر ختم ہو جانے کے بعد خریدی جاتی ہیں؛ یہ درست ہے۔ 1

توجیہات

معلوم اور نامعلوم قیمت

ابن عابدین کی رائے میں صاحبِ النہر کی توجیہ وہاں درست ہے جہاں لیتے وقت قیمت معلوم ہو، جیسے روٹی اور گوشت: جب بھی کچھ لیا جائے، اس کی معلوم قیمت پر بیع منعقد ہو جاتی ہے، اس لیے یہ معدوم کی بیع نہیں۔ 2 جہاں لیتے وقت قیمت نامعلوم ہو وہاں قیمت کی جہالت کی وجہ سے تعاطی سے بیع منعقد نہیں ہوتی؛ اگر لینے والا اسے استعمال کر لے جبکہ دکاندار نے رضا سے عوض کے طور پر دی تھی تو بیع منعقد نہیں ہوتی چاہے بیع کی نیت ہو، کیونکہ بیع نیت سے منعقد نہیں ہوتی؛ یہ ایسے قرض کے مشابہ ہے جس کا ضمان مثل یا قیمت سے ہو، اور جب دونوں مثل یا قیمت کے بدلے کسی مقدار پر متفق ہو جائیں تو لینے والے کا ذمہ بری ہو جاتا ہے۔ 2

نانبائی کا مسئلہ

وہ الاشباہ اور القنیہ سے نقل کرتے ہیں: اگر کسی نے نانبائی کو دراہم دے کر کہا: میں نے تم سے سو مَن روٹی خریدی، اور روزانہ پانچ مَن لینے لگا تو بیع فاسد ہے اور جو کھایا وہ مکروہ ہے، کیونکہ اس نے ایسی روٹی خریدی جس کی طرف اشارہ نہیں تھا، تو مبیع مجہول تھا۔ اور اگر اس نے دراہم دیے اور روزانہ پانچ مَن لیتا رہا اور شروع میں «میں نے خریدا» نہیں کہا تو جائز اور حلال ہے، چاہے دیتے وقت خریداری کی نیت ہو، کیونکہ بیع محض نیت سے منعقد نہیں ہوتی بلکہ لیتے وقت تعاطی سے منعقد ہوتی ہے جب مبیع معلوم ہو۔ 2

قیمت کب معتبر ہے

وہ الاشباہ میں التتمہ سے نقل کرتے ہیں: جس نے چاول، دال وغیرہ لی اور خرچ کے لیے ایک دینار دے رکھا تھا، پھر قیمت میں جھگڑا ہوا، تو لینے کے دن کی قیمت معتبر ہے، کیونکہ قیمت کے ذکر کے وقت یہ بھاؤ طے کرنا تھا۔ 2

متعلقہ مداخل

سوال پر آراء

پہلی رائے · اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · Sunni — اہل سنت، حنفیہ: بعض اہلِ علم کی توجیہ (حموی کی نقل)بنیادی حوالہ

یہ معدوم کی بیع نہیں بلکہ مالک کی عرفی اجازت سے ضائع کی گئی چیزوں کا ضمان ہے، آسانی اور حرج دور کرنے کے لیے؛ اس پر اعتراض ہوا کہ اجازت سے ضمان فقہاء کے کلام میں معروف نہیں، اور مثلی چیز کا ضمان مثل سے اور قیمی کا قیمت سے ہوتا ہے، ثمن سے نہیں۔ 1
مزید آراء (2)

اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · Sunni — اہل سنت، حنفیہ: صاحبِ النہر کی توجیہبنیادی حوالہ

لی گئی چیز تعاطی سے بیع ہے، جس میں قیمت بتانے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ معلوم ہے؛ حموی نے اعتراض کیا کہ ان چیزوں کی قیمتیں بدلتی ہیں اس لیے جھگڑا ہوگا۔ صاحبِ النہر کے نزدیک القنیہ کا قول ضعیف ہے، کیونکہ سب کا اتفاق ہے کہ معدوم کی بیع درست نہیں، اور وہ ابن وہبان سے نقل کرتے ہیں کہ القنیہ کی جو بات قواعد کے خلاف ہو اس کی طرف توجہ نہیں کی جاتی جب تک کسی اور کی نقل اس کی تائید نہ کرے۔ 2

ابن عابدین کی رائے نقطۂ نظردیگر رائے

یہ سب قیاس ہے، اور مسئلہ استحسان پر مبنی ہے؛ ان کے نزدیک اسے اعیان کے قرض پر محمول کیا جا سکتا ہے جس کا ضمان استحساناً ثمن سے ہو، یا عوض کی شرط والے ہبہ پر، یا خریداری کے بھاؤ پر لی گئی چیز پر۔ 1 2

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Ruled on by
رد المحتار علی الدر المختار
Part of
الفقه

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

بیعِ تعاطی (عملی لین دین سے بیع)· نقدی کا کساد اور قیمت کی تبدیلی· مجرد حقوق کا عوض اور مال کے بدلے وظائف سے دست برداری· بغاۃ (امام کے خلاف خروج کرنے والے)· عتق (غلام کی آزادی)· کاری گروں کا ضمان (اجیرِ مشترک کی ذمہ داری)· ایک گواہ اور مدعی کی قسم پر فیصلہ· ابن عابدين

ماخذ

  1. ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، جلد چہارم (بولاق، 1271ھ) , p.19
  2. ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، جلد چہارم (بولاق، 1271ھ) , p.20
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “بیعِ استجرار (کھاتے پر خریداری)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/bay-al-istijrar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

بیعِ تعاطی (عملی لین دین سے بیع)

بیعِ تعاطی یہ ہے کہ خریدار باہمی رضا سے بغیر الفاظ کے قیمت رکھ دے اور چیز لے لے۔ ابن عابدین رد المحتار میں بتاتے ہیں کہ صحیح قول کے مطابق یہ سستی اور قیمتی دونوں چیزوں میں منعقد ہوتی ہے، کرخی کے برخلاف؛ دونوں طرف سے دینے کی شرط میں اختلاف بیان کرتے ہیں؛ اور کہتے ہیں کہ اگر کوئی فریق صراحتاً عدمِ رضا ظاہر کرے، یا فاسد عقد کے بعد اسے ترک کرنے سے پہلے ہو، تو منعقد نہیں ہوتی۔