ارونا آصف علی

أرونا آصف علي

–

دلهي

ہندوستانی معلمہ، پبلشر اور مجاہد آزادی (1909ء–1996ء)، پیدائشی نام ارونا گنگولی، ایک بنگالی براہمن خاندان میں پیدا ہوئیں؛ 1928ء میں آصف علی سے شادی کی۔ وہ اگست 1942ء میں بمبئی کے گووالیا ٹینک میدان میں کانگریس کا پرچم لہرانے کے لیے مشہور ہیں، جب انھوں نے ’ہندوستان چھوڑ دو‘ اجلاس کی بقیہ کارروائی کی صدارت کی؛ بعد میں وہ روپوش رہیں، 1958ء میں دہلی کی پہلی میئر بنیں اور بعد از مرگ بھارت رتن سے نوازی گئیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
activist · سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: آدم عبد اللہ عثمان · الأكوع محمد بن علي · امین احسن اصلاحی · حبیب بورقیبہ · حکیم عبد الحمید

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی

    وہ 16 جولائی 1909ء کو پنجاب کے کالکا میں ایک بنگالی براہمن خاندان میں پیدا ہوئیں 1۔ ان کے والد اوپیندرناتھ گنگولی مشرقی بنگال کے باریسال سے تعلق رکھنے والے ریسٹورنٹ مالک تھے؛ ان کی والدہ امبالیکا دیوی مشہور برہمو رہنما تریلوکیا ناتھ سانیال کی بیٹی تھیں جنھوں نے بہت سے برہمو بھجن لکھے 1۔ انھوں نے لاہور کے سیکرڈ ہارٹ کانونٹ اور نینی تال کے آل سینٹس کالج میں تعلیم پائی اور بعد میں کلکتہ کے گوکھلے میموریل اسکول میں پڑھایا 2۔

    ان کی ملاقات الہ آباد میں کانگریس رہنما آصف علی سے ہوئی اور 1928ء میں مذہب اور عمر کی بنیاد پر والدین کی مخالفت کے باوجود ان کی شادی ہو گئی — وہ مسلمان تھے اور ان سے بیس سال سے زیادہ بڑے تھے 1۔

    تحریک آزادی میں حصہ

    شادی کے بعد وہ انڈین نیشنل کانگریس کی رکن بنیں اور نمک ستیہ گرہ کے جلوسوں میں شریک ہوئیں 2۔ 1931ء میں آوارہ گردی کے الزام میں گرفتار ہوئیں اور گاندھی–ارون معاہدے کے تحت رہائی سے اس وقت تک محروم رہیں جب تک عوامی احتجاج اور ساتھی قیدی خواتین کے ان کے بغیر رہا ہونے سے انکار نے معاملہ حل نہ کیا 2۔ 1932ء میں تیہاڑ جیل میں سیاسی قیدیوں کے ساتھ سلوک کے خلاف بھوک ہڑتال کی 2۔

    9 اگست 1942ء کو، حکومت کے کانگریس قیادت کو گرفتار کرنے کے بعد، انھوں نے ’ہندوستان چھوڑ دو‘ اجلاس کی بقیہ کارروائی کی صدارت کی اور پولیس کی فائرنگ کے باوجود گووالیا ٹینک میدان میں کانگریس کا پرچم لہرایا 2۔ ’1942ء کی تحریک کی ہیروئن‘ کہلائیں، ان کی گرفتاری پر پانچ ہزار روپے انعام مقرر ہوا، وہ روپوش رہیں، رام منوہر لوہیا کے ساتھ کانگریس کے ماہانہ ’انقلاب‘ کی ادارت کی، اور 1946ء میں وارنٹ واپس ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں 2۔

    آزادی کے بعد

    وہ 1948ء میں کانگریس سوشلسٹ پارٹی سے سوشلسٹ پارٹی میں گئیں اور پچاس کی دہائی کے اوائل میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا میں شامل ہوئیں، جسے 1956ء میں چھوڑ دیا 2۔ 1954ء میں نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن کے قیام میں حصہ لیا اور 1958ء میں دہلی کی پہلی میئر منتخب ہوئیں 2۔ ایڈاتاتا ناراینن کے ساتھ مل کر لنک پبلشنگ ہاؤس قائم کیا جس نے روزنامہ ’پیٹریاٹ‘ اور ہفت روزہ ’لنک‘ شائع کیے 2۔

    انھیں 1964ء میں بین الاقوامی لینن امن انعام، 1991ء میں جواہر لعل نہرو ایوارڈ اور 1992ء میں پدم وبھوشن ملا، اور 1997ء میں بعد از مرگ بھارت رتن سے نوازی گئیں 2۔

    وہ 29 جولائی 1996ء کو نئی دہلی میں 87 سال کی عمر میں وفات پا گئیں 23۔

    دین جیسا کہ ذرائع ثابت کرتے ہیں

    ان کے اپنے مقالے ان کے خاندانی پس منظر — بنگالی براہمن خاندان اور برہمو سماج کے رہنما نانا — کا ذکر کرتے ہیں اور انگریزی مقالہ انھیں ’برہمو‘ زمرے میں رکھتا ہے، لیکن کہیں ان کا اپنا مذہب بیان نہیں کرتے اور نہ کسی تبدیلی مذہب کا ذکر ہے 21۔ عربی اور اردو مقالوں کے خانہ اطلاعات میں مذہب کا خانہ خالی ہے 4 اور ویکی ڈیٹا ان کے لیے کوئی مذہب درج نہیں کرتا 3۔ صرف ایک اقتباس ان کا مذہب نام لیتا ہے: ان کے شوہر پر انگریزی مقالہ شادی کے بارے میں کہتا ہے کہ ’آصف علی مسلمان جبکہ ارونا ہندو تھیں‘ 5، اور ان پر اردو مقالہ اسی جملے کو ترجمے میں دہراتا ہے 6۔ عجائب گھر کے دو ماخذی اصول کے تحت ایک شہادت اور اس کا ترجمہ ایک ہی ماخذی خاندان ہے، اور خاندانی پس منظر اور زمرے ذاتی شہادت نہیں ہوتے؛ اس لیے ان کا مذہب ڈیٹا ریکارڈ میں نامعلوم رکھا گیا ہے اور یہ شواہد بانی کے فیصلے کے لیے محفوظ اور نشان زد ہیں۔

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذی ادارے، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہو اور ہر تبدیل شدہ واقعے کا ماخذ نام لے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    دلهي
    Spouse of
    آصف علی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبادی بانو بیگم· ابو الکلام آزاد· الطاف حسین حالی· عبد الکلام· عطا الرحمان· بہادر شاہ ظفر· بندو خان· داغ دہلوی

    ماخذ

    1. Aruna Asaf Ali — Urdu Wikipedia
    2. Aruna Asaf Ali — English Wikipedia
    3. Aruna Asaf Ali — Wikidata Q467207
    4. Aruna Asaf Ali — Arabic Wikipedia
    5. Asaf Ali — English Wikipedia
    6. Asaf Ali — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ارونا آصف علی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/aruna-asaf-ali/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبادی بانو بیگم

    ہندوستانی مجاہد آزادی (1850ء–1924ء) جو ’بی اماں‘ کے نام سے مشہور ہیں، محمد علی جوہر اور شوکت علی کی والدہ۔ بیوگی کے بعد انھوں نے اپنے زیورات رہن رکھ کر بچوں کو تعلیم دلوائی، خلافت کمیٹی میں شامل ہوئیں، 1917ء کے مسلم لیگ اجلاس میں پُرجوش تقریر کی اور وفات تک تحریک خلافت اور آزادی کے لیے ملک بھر کا دورہ کر کے خواتین کو متحرک کرتی اور چندہ جمع کرتی رہیں۔