فراق گورکھپوری

فراق جوراخبوري

–

دلهي

ہندوستانی اردو شاعر اور نقاد (1896ء–1982ء)، جن کا اصل نام رگھوپتی سہائے تھا اور جن کا تعلق گورکھپور سے تھا۔ وہ الہ آباد یونیورسٹی میں انگریزی ادب کے استاد رہے اور اپنے مجموعے «گل نغمہ» پر گیان پیٹھ انعام (1969ء) پانے والے پہلے اردو ادیب تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · writer · teacher
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الله الموسوي الشيرازي · حامد الأيتاج · حسنین محمد مخلوف · محمد ادریس سنوسی · خان عبد الغفار خان

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    فراق ضلع گورکھپور کے بانوار پار میں ایک خوش حال اور تعلیم یافتہ ہندو کائست گھرانے میں پیدا ہوئے اور چودہ برس کی عمر میں ان کی مرضی کے خلاف شادی ہوئی۔ انہوں نے ہندوستانی سول سروس کا امتحان پاس کیا، پھر عہدہ چھوڑ کر گاندھی کی تحریک عدم تعاون میں شامل ہوئے اور اٹھارہ ماہ قید کاٹی۔1

    تدریس اور ادب

    فراق ۱۹۵۸ء تک الٰہ آباد یونیورسٹی میں انگریزی کے لیکچرار رہے، ۱۹۳۶ء میں ہندوستان کی پہلی انجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد رکھی اور لکھنؤ میں اس کی صدارت کی۔ ان کی تصانیف میں «روحِ کائنات» اور تنقیدی کتاب «ادب کی حقیقت» شامل ہیں۔21

    وفات اور آخری رسومات

    فراق ۳ مارچ ۱۹۸۲ء کو نئی دہلی میں وفات پا گئے۔ اردو مضمون مالک رام کی «تذکرہ» کے حوالے سے بیان کرتا ہے کہ ان کی میت الٰہ آباد لے جائی گئی اور گنگا و جمنا کے سنگم پر سپردِ آتش کی گئی، جو ہندو روایت میں مقدس مقام ہے۔23

    وابستگی پر نوٹ

    کوئی مضمون اپنے متن میں فراق کے اپنے مذہب کا صریح بیان نہیں کرتا: انگریزی مضمون ان کے گھرانے کو ہندو کہتا ہے (خاندانی پس منظر)، وکی ڈیٹا کی مذہب قدر «ہندو مت» ہے (واحد بناوٹی قدر)، دونوں نسخوں کے زمرے انہیں ہندو شعرا میں رکھتے ہیں، اور اردو مضمون مالک رام کے حوالے سے ان کی چتا جلانے کا واقعہ نقل کرتا ہے۔123

    مآخذ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    دلهي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبادی بانو بیگم· ابو الکلام آزاد· الطاف حسین حالی· عبد الکلام· ارونا آصف علی· عطا الرحمان· بہادر شاہ ظفر· بندو خان

    ماخذ

    1. Firaq Gorakhpuri — English Wikipedia
    2. Firaq Gorakhpuri — Urdu Wikipedia
    3. Firaq Gorakhpuri — Wikidata Q82071
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “فراق گورکھپوری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/firaq-gorakhpuri/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبادی بانو بیگم

    ہندوستانی مجاہد آزادی (1850ء–1924ء) جو ’بی اماں‘ کے نام سے مشہور ہیں، محمد علی جوہر اور شوکت علی کی والدہ۔ بیوگی کے بعد انھوں نے اپنے زیورات رہن رکھ کر بچوں کو تعلیم دلوائی، خلافت کمیٹی میں شامل ہوئیں، 1917ء کے مسلم لیگ اجلاس میں پُرجوش تقریر کی اور وفات تک تحریک خلافت اور آزادی کے لیے ملک بھر کا دورہ کر کے خواتین کو متحرک کرتی اور چندہ جمع کرتی رہیں۔