محمود محمد شاکر

محمود محمد شاكر

–

الإسكندرية → القاهرة

عربی زبان کے مصری علامہ، محقق اور ادیب ⁦(1909ء–1997ء)⁩، کنیت ابو فہر، «منہجِ تذوق» کے صاحب؛ ان کی کتاب «المتنبی» ⁦(1936ء)⁩ نے ہلچل مچائی، انھوں نے تفسیرِ طبری کی سولہ جلدیں، «طبقات فحول الشعراء» اور «دلائل الاعجاز» مرتب کیں، طہ حسین اور لویس عوض سے دو ادبی معرکے لڑے، اور عربی زبان و ادب کا شاہ فیصل انعام ⁦(1984ء)⁩ پایا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · writer · شاعر
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: آدم عبد اللہ عثمان · الأكوع محمد بن علي · امین احسن اصلاحی · حبیب بورقیبہ · حکیم عبد الحمید

مکان میں

الإسكندريةالقاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں

    عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات1984

    اعزازات

    • شاہ فیصل انعام · arabic-language-and-literature · جیتا · 1984 · topic: Arabic literature of the fourth century AH

    ڈیجیٹل نقش

    ویکیپیڈیا پر ان زبانوں میں:ararzckbenfrhauruz (2026-11-07 کو پڑھا گیا)

    ویکی ڈیٹا:Q6734388

    خلاصہ

    ابو فہر محمود بن محمد شاکر ⁦(1327–1418ھ / 1909ء–1997ء)⁩ عربی زبان کے مصری علامہ، محقق، مرتب اور ادیب تھے، ادبی مطالعے میں «منہجِ تذوق» کے بانی، جنھیں ان کے شاگرد «شیخ العربیہ» کہتے۔ وہ محدث احمد محمد شاکر کے بھائی اور محقق عبد السلام ہارون کے پھوپھی زاد تھے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ اسکندریہ میں طہطا کے ایک خاندان میں پیدا ہوئے اور پہلے ہی سال قاہرہ آ گئے جب ان کے والد جامعہ ازہر کے نائب سربراہ مقرر ہوئے۔ والد نے انھیں ازہر کے حنبلی رواق میں داخل کیا؛ پھر وہ جدید تعلیم کی طرف گئے، بچپن میں دیوانِ متنبی یاد کر لیا، خدیوی ثانوی اسکول میں سائنس پڑھی، اور 1926ء میں کلیۃ الآداب کے شعبۂ عربی میں داخل ہوئے۔ 1

    مضمون کے مطابق انھوں نے طہ حسین کے جاہلی شاعری پر لیکچروں میں مستشرق مارگولیتھ کے نظریے کی تکرار دیکھی، دوسرے سال یونیورسٹی چھوڑ دی، اور 1928ء میں جدہ گئے جہاں شاہ عبد العزیز کی فرمائش پر جدہ کا سعودی ابتدائی مدرسہ قائم کر کے اس کے مدیر رہے، پھر 1929ء میں قاہرہ لوٹے۔ 1

    المتنبی اور منہجِ تذوق

    «المقتطف» کے مدیر فؤاد صروف نے متنبی پر مطالعہ مانگا تو انھوں نے پوری کتاب لکھ دی، جو 1 جنوری 1936ء کو رسالے کے خصوصی شمارے کے طور پر چھپی؛ اس میں انھوں نے متنبی کو علوی النسب کہا، اور اس کے نئے منہج نے ہلچل مچائی۔ 1

    ورثے کی تحقیق

    بہت سے لوگ انھیں عربی متون کے محققین میں سرِفہرست سمجھتے ہیں؛ وہ کتابوں کے سرورق پر «قرأہ و علّق علیہ» لکھتے۔ ان کی تحقیقات میں تفسیرِ طبری کی سولہ جلدیں ⁦(1954ء–1969ء)⁩، ابن سلام الجمحی کی «طبقات فحول الشعراء»، طبری کی «تہذیب الآثار»، اور عبد القاہر جرجانی کی «دلائل الاعجاز» اور «اسرار البلاغہ» ہیں۔ ان کی اپنی کتب میں «القوس العذراء»، «اباطیل و اسمار» اور «رسالۃ فی الطریق الیٰ ثقافتنا» ہیں۔ 1

    دو معرکے

    مضمون دو ادبی معرکوں کا ذکر کرتا ہے: طہ حسین کی «مع المتنبی» ⁦(1938ء)⁩ کے بعد، جب شاکر نے «البلاغ» میں تیرہ مضامین لکھ کر ان پر اپنی کتاب سے اخذ کا الزام لگایا؛ اور 1964ء میں لویس عوض سے، الاہرام میں معری پر یونانی ثقافت کے اثر سے متعلق ان کے مضامین کے بعد، جن کا جواب شاکر نے ان مقالات میں دیا جو بعد میں «اباطیل و اسمار» میں جمع ہوئے۔ یہ مضمون کا بیان ہے؛ عجائب گھر فریقین میں فیصلہ نہیں کرتا۔ 1

    اعزاز اور وفات

    وہ قاہرہ اور دمشق کی عربی زبان کی اکادمیوں کے رکن تھے اور 1984ء میں عربی زبان و ادب کا شاہ فیصل انعام پایا۔ 1 3 وہ جمعرات 3 ربیع الآخر 1418ھ / 7 اگست 1997ء کی شام قاہرہ میں فوت ہوئے۔ 1

    ڈیجیٹل موجودگی

    7 نومبر 2026ء کو ویکی ڈیٹا کے مطابق ان پر ویکیپیڈیا کے آٹھ نسخوں میں مضامین تھے۔ 2

    مراجع

    • عربی ویکیپیڈیا مضمون، نظرِ ثانی 18 ستمبر 2026ء۔ 1

    • ویکی ڈیٹا آئٹم Q6734388۔ 2

    • شاہ فیصل انعام یافتگان کی فہرست، نظرِ ثانی 31 اکتوبر 2026ء۔ 3

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    الإسكندرية
    Died in
    القاهرة
    Sibling of
    أحمد محمد شاكر
    Awarded
    شاہ فیصل انعام

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ذہبی کا طلبِ حدیث کے سفر، تقریباً 700ھ/1300ء· ابن تیمیہ کا اسکندریہ کے برج میں جلاوطنی، 709ھ/1309ء· احمد عصمت عبد المجید· احمد زویل· عائشہ عبد الرحمن ⁦(بنت الشاطی)⁩· الشُمُنّی· عمرو خالد· جمال عبد الناصر

    ماخذ

    1. محمود محمد شاكر — Arabic Wikipedia
    2. Mahmoud Mohamed Shaker — Wikidata Q6734388
    3. King Faisal Prize — English Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمود محمد شاکر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mahmud-muhammad-shakir/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-07.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ذہبی کا طلبِ حدیث کے سفر، تقریباً 700ھ/1300ء

    ذہبی نے طلبِ حدیث میں سفر کیا: بعلبک میں ابن خلیک بن علوان اور زینب بنت عمر بن الکندی سے، مکہ میں توزری سے، حلب میں شوکر زینی سے، نابلوس میں عماد بن بدران سے، اسکندریہ میں ابو الحسن عراقی اور یحیی صواف سے سنا، اور قاہرہ میں سب سے زیادہ قیام کیا جہاں ابن منصور افریقی اور خصوصاً تقی الدین ابن دقیق العید سے پڑھا — یہاں تک کہ ان کے شیوخ تیرہ سو سے تجاوز کر گئے جن کی تراجم انہوں نے اپنے «معجم» میں جمع کیں ۔ ابن حجر کے مطابق انہوں نے اپنے لیے تقریباً تیس سفری جزوے مرتب کیے ۔