ایک نظر میں
- کردار
- عالم · writer · شاعر
- خطہ
- egypt-nile
- شناختیں
- Wikidata
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں
عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات1984
اعزازات
- شاہ فیصل انعام · arabic-language-and-literature · جیتا · 1984 · topic: Arabic literature of the fourth century AH
ڈیجیٹل نقش
ویکیپیڈیا پر ان زبانوں میں:ararzckbenfrhauruz (2026-11-07 کو پڑھا گیا)
ویکی ڈیٹا:Q6734388
خلاصہ
ابو فہر محمود بن محمد شاکر (1327–1418ھ / 1909ء–1997ء) عربی زبان کے مصری علامہ، محقق، مرتب اور ادیب تھے، ادبی مطالعے میں «منہجِ تذوق» کے بانی، جنھیں ان کے شاگرد «شیخ العربیہ» کہتے۔ وہ محدث احمد محمد شاکر کے بھائی اور محقق عبد السلام ہارون کے پھوپھی زاد تھے۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ اسکندریہ میں طہطا کے ایک خاندان میں پیدا ہوئے اور پہلے ہی سال قاہرہ آ گئے جب ان کے والد جامعہ ازہر کے نائب سربراہ مقرر ہوئے۔ والد نے انھیں ازہر کے حنبلی رواق میں داخل کیا؛ پھر وہ جدید تعلیم کی طرف گئے، بچپن میں دیوانِ متنبی یاد کر لیا، خدیوی ثانوی اسکول میں سائنس پڑھی، اور 1926ء میں کلیۃ الآداب کے شعبۂ عربی میں داخل ہوئے۔ 1
مضمون کے مطابق انھوں نے طہ حسین کے جاہلی شاعری پر لیکچروں میں مستشرق مارگولیتھ کے نظریے کی تکرار دیکھی، دوسرے سال یونیورسٹی چھوڑ دی، اور 1928ء میں جدہ گئے جہاں شاہ عبد العزیز کی فرمائش پر جدہ کا سعودی ابتدائی مدرسہ قائم کر کے اس کے مدیر رہے، پھر 1929ء میں قاہرہ لوٹے۔ 1
المتنبی اور منہجِ تذوق
«المقتطف» کے مدیر فؤاد صروف نے متنبی پر مطالعہ مانگا تو انھوں نے پوری کتاب لکھ دی، جو 1 جنوری 1936ء کو رسالے کے خصوصی شمارے کے طور پر چھپی؛ اس میں انھوں نے متنبی کو علوی النسب کہا، اور اس کے نئے منہج نے ہلچل مچائی۔ 1
ورثے کی تحقیق
بہت سے لوگ انھیں عربی متون کے محققین میں سرِفہرست سمجھتے ہیں؛ وہ کتابوں کے سرورق پر «قرأہ و علّق علیہ» لکھتے۔ ان کی تحقیقات میں تفسیرِ طبری کی سولہ جلدیں (1954ء–1969ء)، ابن سلام الجمحی کی «طبقات فحول الشعراء»، طبری کی «تہذیب الآثار»، اور عبد القاہر جرجانی کی «دلائل الاعجاز» اور «اسرار البلاغہ» ہیں۔ ان کی اپنی کتب میں «القوس العذراء»، «اباطیل و اسمار» اور «رسالۃ فی الطریق الیٰ ثقافتنا» ہیں۔ 1
دو معرکے
مضمون دو ادبی معرکوں کا ذکر کرتا ہے: طہ حسین کی «مع المتنبی» (1938ء) کے بعد، جب شاکر نے «البلاغ» میں تیرہ مضامین لکھ کر ان پر اپنی کتاب سے اخذ کا الزام لگایا؛ اور 1964ء میں لویس عوض سے، الاہرام میں معری پر یونانی ثقافت کے اثر سے متعلق ان کے مضامین کے بعد، جن کا جواب شاکر نے ان مقالات میں دیا جو بعد میں «اباطیل و اسمار» میں جمع ہوئے۔ یہ مضمون کا بیان ہے؛ عجائب گھر فریقین میں فیصلہ نہیں کرتا۔ 1
اعزاز اور وفات
وہ قاہرہ اور دمشق کی عربی زبان کی اکادمیوں کے رکن تھے اور 1984ء میں عربی زبان و ادب کا شاہ فیصل انعام پایا۔ 1 3 وہ جمعرات 3 ربیع الآخر 1418ھ / 7 اگست 1997ء کی شام قاہرہ میں فوت ہوئے۔ 1
ڈیجیٹل موجودگی
7 نومبر 2026ء کو ویکی ڈیٹا کے مطابق ان پر ویکیپیڈیا کے آٹھ نسخوں میں مضامین تھے۔ 2
مراجع
تعلقات
- Born in
- الإسكندرية
- Died in
- القاهرة
- Sibling of
- أحمد محمد شاكر
- Awarded
- شاہ فیصل انعام
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ذہبی کا طلبِ حدیث کے سفر، تقریباً 700ھ/1300ء· ابن تیمیہ کا اسکندریہ کے برج میں جلاوطنی، 709ھ/1309ء· احمد عصمت عبد المجید· احمد زویل· عائشہ عبد الرحمن (بنت الشاطی)· الشُمُنّی· عمرو خالد· جمال عبد الناصر
ماخذ
- محمود محمد شاكر — Arabic Wikipedia
- Mahmoud Mohamed Shaker — Wikidata Q6734388
- King Faisal Prize — English Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “محمود محمد شاکر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mahmud-muhammad-shakir/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-07.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON