شاذ حدیث

خیالات الفاظ

الحديث الشاذ

ابن حجر کے نزدیک شاذ وہ ہے جسے مقبول راوی اپنے سے بہتر راوی کی مخالفت میں روایت کرے، اور اس کا راجح مقابل محفوظ ہے؛ وہ مثال میں عوسجہ عن ابن عباس کی حدیث دیتے ہیں جسے ابن عیینہ نے متصل اور حماد بن زید نے ابن عباس کے بغیر روایت کیا، جس پر ابو حاتم نے کہا: محفوظ ابن عیینہ کی حدیث ہے 1۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global

scripture-and-its-sciences

خلاصہ

جب کسی مقبول راوی کی مخالفت اس سے زیادہ راجح راوی کرے، زیادہ ضبط، زیادہ تعداد یا ترجیح کی کسی اور وجہ سے، تو راجح کو محفوظ اور اس کے مقابل مرجوح کو شاذ کہا جاتا ہے؛ ابن حجر "نزہۃ النظر" میں یہی بیان کرتے ہیں۔ 2

مثال

ابن حجر کی مثال وہ روایت ہے جو ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے سفیان بن عیینہ عن عمرو بن دینار عن عوسجہ عن ابن عباس کی سند سے نقل کی کہ نبی کے زمانے میں ایک شخص فوت ہوا اور اس کا کوئی وارث نہ تھا سوائے ایک آزاد کردہ غلام کے۔ ابن جریج وغیرہ نے ابن عیینہ کی متصل سند کی متابعت کی، مگر حماد بن زید نے اسے عمرو بن دینار عن عوسجہ روایت کیا اور ابن عباس کا ذکر نہیں کیا۔ ابو حاتم نے کہا: محفوظ ابن عیینہ کی حدیث ہے۔ 1

ابن حجر تبصرہ کرتے ہیں کہ حماد بن زید عادل اور ضابط تھے، پھر بھی ابو حاتم نے ان لوگوں کی روایت کو ترجیح دی جو تعداد میں ان سے زیادہ تھے۔ 3

معتمد تعریف

اس سے ابن حجر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ شاذ وہ ہے جسے مقبول راوی اپنے سے بہتر کی مخالفت میں روایت کرے، اور اسے اصطلاح کے لحاظ سے معتمد تعریف کہتے ہیں۔ 3

شاذ اور منکر

ابن حجر کے نزدیک شاذ اور منکر میں عموم و خصوص من وجہ ہے: دونوں میں مخالفت شرط ہے، مگر شاذ ثقہ یا صدوق کی روایت ہے اور منکر ضعیف کی؛ وہ کہتے ہیں کہ جس نے دونوں کو برابر سمجھا وہ غفلت میں رہا۔ 4

صحیح کی شرط سے تعلق

شذوذ کا نہ ہونا صحیح اور حسن کی تعریف میں شامل ہے، اسی لیے ابن حجر ثقہ کے اضافے کے مطلق قبول کو رد کرتے ہیں۔ 5

ابن الصلاح کے «مقدمہ» میں

تعارف

«شاذ کی معرفت» ابن الصلاح کے ہاں تیرہویں نوع ہے؛ وہ اس کی تین تعریفیں نقل کر کے پھر اپنی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ 6

تین تعریفیں

ابن الصلاح کی تنقید

ابن الصلاح کہتے ہیں کہ جس پر شافعی نے شذوذ کا حکم لگایا وہ بلا اشکال شاذ اور غیر مقبول ہے، مگر دوسری دو تعریفوں پر اس روایت سے اشکال ہوتا ہے جس میں عادل، حافظ، ضابط راوی منفرد ہو، جیسے «انما الاعمال بالنیات»، جس میں عمر منفرد ہیں، پھر ان سے علقمہ بن وقاص، پھر محمد بن ابراہیم، پھر یحییٰ بن سعید، جیسا کہ محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔ 7 اس سے زیادہ واضح عبد اللہ بن دینار عن ابن عمر کی ولاء کی بیع اور ہبہ سے ممانعت والی حدیث ہے، جس میں عبد اللہ بن دینار منفرد ہیں۔ 8

ان کی تفصیل

وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جب راوی کسی چیز میں منفرد ہو تو اس پر غور کیا جائے: اگر وہ اس کی روایت کے خلاف ہو جو حفظ اور ضبط میں اس سے بہتر ہے تو وہ شاذ اور مردود ہے؛ اور اگر مخالفت نہ ہو تو راوی کو دیکھا جائے — اگر وہ عادل، حافظ اور اتقان میں قابلِ اعتماد ہو تو اس کا تفرد قبول ہے، ورنہ اس کا تفرد اسے کمزور کر کے صحیح کے دائرے سے ہٹا دیتا ہے۔ 9 پھر یہ مختلف درجوں میں ہوتا ہے: اگر منفرد راوی اس ضابط کے درجے سے زیادہ دور نہ ہو جس کا تفرد مقبول ہے تو اس کی حدیث کو حسن سمجھا جائے اور ضعیف تک نہ گرایا جائے، اور اگر دور ہو تو رد کر دی جائے اور شاذ منکر کے قبیل سے ہو۔ 9 چنانچہ شاذِ مردود کی دو قسمیں ہیں: مخالفت کرنے والی فرد روایت، اور وہ فرد روایت جس کے راوی میں اتنی ثقاہت اور ضبط نہ ہو جو تفرد سے پیدا ہونے والی نکارت اور ضعف کی تلافی کرے۔ 9

متعلقہ تصورات

شاذ کا تعلق غریب اور فرد اور زیادۃ الثقہ سے ہے، کیونکہ ابن الصلاح ثقہ کی مخالف زیادت کو شاذ کے حکم میں رکھتے ہیں۔ 10 ان کی اگلی نوع، منکر، میں ناقابلِ برداشت تفرد کی مثال ابو زکیر یحییٰ بن محمد بن قیس کی روایت «کچی کھجور کو چھوہارے کے ساتھ کھاؤ» ہے؛ وہ ایک نیک شیخ ہیں جن سے مسلم نے روایت لی، مگر وہ اس درجے کو نہیں پہنچے جس کا تفرد قابلِ برداشت ہو۔ 11

سوال پر آراء

پہلی رائے · اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · Sunni (اہلِ سنت): شافعی (مخالفت)بنیادی حوالہ

یونس بن عبد الاعلیٰ نے شافعی کا قول روایت کیا: شاذ یہ نہیں کہ ثقہ وہ روایت کرے جو دوسرا روایت نہ کرے؛ شاذ یہ ہے کہ ثقہ ایسی حدیث روایت کرے جو لوگوں کی روایت کے خلاف ہو؛ خلیلی نے بھی شافعی اور اہلِ حجاز کی ایک جماعت سے یہی نقل کیا۔ 6
مزید آراء (2)

اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · Sunni (اہلِ سنت): خلیلی (ایک ہی سند)بنیادی حوالہ

حفاظِ حدیث کا موقف یہ ہے کہ شاذ وہ ہے جس کی صرف ایک سند ہو، جس میں کوئی ایک شیخ منفرد ہو، ثقہ ہو یا غیر ثقہ؛ غیر ثقہ کی ہو تو متروک ہے، اور ثقہ کی ہو تو توقف کیا جائے اور اس سے حجت نہ پکڑی جائے۔ 7

اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · Sunni (اہلِ سنت): حاکم (ثقہ کا بلا متابع تفرد)بنیادی حوالہ

شاذ وہ حدیث ہے جس میں کوئی ثقہ منفرد ہو اور اس ثقہ کا کوئی متابع نہ ہو؛ یہ معلل سے اس طرح مختلف ہے کہ معلل کی علت پر اطلاع ہو چکی ہوتی ہے، جبکہ شاذ میں ایسی علت پر اطلاع نہیں ہوتی۔ 7

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Related to
منکر حدیث· غریب (فرد) حدیث· زیادۃ الثقہ· متابعت، شاہد اور اعتبار
Part of
علم مصطلح الحديث

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

علم مصطلح الحديث· متابعت، شاہد اور اعتبار· الحديث المعلل (علل الحديث)· صحیح حدیث· غریب (فرد) حدیث· منکر حدیث· زیادۃ الثقہ· الحديث النبوي

ماخذ

  1. شرح نخبة الفكر: نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر — ابن حجر العسقلاني، تحقيق نور الدين عتر، مكتبة البشرى، كراتشي 1432هـ/2011م , p. 66-67
  2. شرح نخبة الفكر: نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر — ابن حجر العسقلاني، تحقيق نور الدين عتر، مكتبة البشرى، كراتشي 1432هـ/2011م , p. 66
  3. شرح نخبة الفكر: نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر — ابن حجر العسقلاني، تحقيق نور الدين عتر، مكتبة البشرى، كراتشي 1432هـ/2011م , p. 67
  4. شرح نخبة الفكر: نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر — ابن حجر العسقلاني، تحقيق نور الدين عتر، مكتبة البشرى، كراتشي 1432هـ/2011م , p. 68
  5. شرح نخبة الفكر: نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر — ابن حجر العسقلاني، تحقيق نور الدين عتر، مكتبة البشرى، كراتشي 1432هـ/2011م , p. 64
  6. علوم الحديث لابن الصلاح — تحقيق وشرح نور الدين عتر (الطبعة غير مبيّنة في المسح) , p. 76
  7. علوم الحديث لابن الصلاح — تحقيق وشرح نور الدين عتر (الطبعة غير مبيّنة في المسح) , p. 77
  8. علوم الحديث لابن الصلاح — تحقيق وشرح نور الدين عتر (الطبعة غير مبيّنة في المسح) , p. 78
  9. علوم الحديث لابن الصلاح — تحقيق وشرح نور الدين عتر (الطبعة غير مبيّنة في المسح) , p. 79
  10. علوم الحديث لابن الصلاح — تحقيق وشرح نور الدين عتر (الطبعة غير مبيّنة في المسح) , p. 86
  11. علوم الحديث لابن الصلاح — تحقيق وشرح نور الدين عتر (الطبعة غير مبيّنة في المسح) , p. 82
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “شاذ حدیث”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/al-hadith-al-shadhdh/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

علم مصطلح الحديث

Mustalah al-hadith is the science of the states of chain and text — sahih, hasan, da'if; mawquf, marfu', maqtu'; muttasil, munqati', mu'dal, mursal — and the reconciliation and hidden defects of transmissions. It began in the early muhaddithun's obiter dicta, then gained its own manuals; the earliest surviving systematic statement is Muslim's introduction to his Sahih, later epitomised in works like Ibn al-Salah's Muqaddima.