قصيدة حسان «قومي أولئك إن تسألي كرام»

مصنف حسان بن ثابت

قصيدة حسان «قومي أولئك إن تسألي كرام»

A mim-rhymed poem by Hassan ibn Thabit telling the Ansar's story: kings in their own land, their settlement at Yathrib and the conquest of the Jewish forts among the palms, then their welcome of the Prophet and their fighting for him; Ibn Hisham gives variant readings from Abu Zayd al-Ansari, and the 1936 editors mark here the end of the sira's eighteenth traditional part.

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
arabia
جائزہ
مسودہ تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

literature

موجز

میم کے قافیے کا ایک طویل قصیدہ، جسے ابن اسحاق حسان بن ثابت سے روایت کرتے ہیں۔ یہ ان تین قصیدوں میں سے تیسرا ہے جن پر انہوں نے برأت کا باب ختم کیا؛ اس میں انصار کی تاریخ ان کے قدیم بادشاہی دور سے لے کر نبی کی مدد تک بیان ہوئی ہے۔ 1

مضمون القصيدة

شاعر کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ ان کی قوم معزز ہے جو مہمان کا اکرام کرتی ہے، اپنے مولیٰ کی حفاظت کرتی ہے اور اپنے پڑوسی کی غمخواری کرتی ہے، اور وہ اپنی سرزمین پر بادشاہ تھے جن پر کوئی حکومت نہیں کر سکتا تھا۔ 1 پھر وہ عاد، ثمود اور ارم کے بچے کھچے آثار کو یاد کرتے ہیں، اور یثرب کے ان باشندوں کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے کھجوروں کے درمیان قلعے بنائے اور ان میں مویشی پالے، جن پر یہود نے غلبہ پایا، اور جو پھلوں کے رس پر گزارا کرتے تھے۔ 1 وہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی قوم اونٹوں اور گھوڑوں پر ان کی طرف گئی، پھر جب وہ صرار کے دونوں پہلوؤں پر اترے تو گھوڑوں کا لشکر ان پر آ پڑا، وہ تیزی سے بھاگ گئے، اور انصار اپنے سرداروں، عورتوں اور بچوں کے ساتھ واپس آ گئے، اپنے گھروں کے وارث بنے اور وہاں بادشاہ رہے۔ 1 2 جب ہدایت یافتہ رسول ظلم کے بعد حق اور نور لے کر ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: آپ نے سچ فرمایا، ہمارے پاس تشریف لائیں اور ہمارے درمیان قیام فرمائیں؛ انہوں نے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو ان کے لیے ڈھال بنایا اور تلواروں کے ساتھ ان کی حفاظت میں لڑے۔ 2 3 آخر میں کہتے ہیں کہ یہ وہ قدیم شرف ہے جو انہوں نے اپنے سرداروں سے وراثت میں پایا، اور لوگوں پر ان کی فضیلت ہے۔ 3

قصیدے کا ایک شعر اس مکالمے کو بیان کرتا ہے جو انصار اور رسول کے درمیان ہوا، یعنی انصار کا کہنا کہ آپ نے سچ کہا اور ہمارے پاس آ کر ہمارے درمیان قیام فرمائیں۔ 2

روایت اور نسبت

ابن ہشام کہتے ہیں کہ ابو زید انصاری نے ان میں سے دو اشعار مختلف روایات کے ساتھ سنائے، اور یہ کہ «وکل کمیت مطار الفؤاد» کا شعر بھی انہی سے ہے۔ 3 محققین بتاتے ہیں کہ یہ ابو زید وہی لغوی راوی ہیں، اور یہ کہ قدیم سیرت کے اجزاء اس مقام پر اٹھارہویں جزء پر ختم ہوتے ہیں۔ 3

محققین کی شرح

محققین قصیدے کے اشعار کو حسان کے دیوان سے ملاتے ہیں اور روایت کے فرق بیان کرتے ہیں، اور اس کے مشکل الفاظ کی تشریح کرتے ہیں: «الایسار» وہ لوگ جو جوا کھیلتے ہیں، «غشم» سخت ترین ظلم، «دجّن» گھروں میں رکھا گیا، «النواضح» وہ اونٹ جن پر پانی کھینچا جاتا ہے، «الہجان» سفید، «السلہبۃ» لمبی نسل کی گھوڑی، «الکماۃ» جنگجو جو ہتھیاروں میں چھپے ہوتے ہیں، «لہ میعۃ» چمکدار تلوار کی آب، اور «القروم» سردار۔ 1 2 3

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Authored by
حسان بن ثابت
Mentions
الأنصار· المدينة المنورة· محمد· سعيد بن أوس أبو زيد الأنصاري

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

المدينة المنورة· قدوم وفد بني تميم ومفاخرتهم النبي· غزوة عمير بن عدي الخطمي لقتل عصماء بنت مروان· مرثية حسان بن ثابت للنبي· المؤاخاة بين المهاجرين والأنصار· صحيفة المدينة· غزوة السويق· حادثة الإفك

ماخذ

  1. السيرة النبوية لابن هشام — طبعة السقا 1355هـ/1936م , 4/202
  2. السيرة النبوية لابن هشام — طبعة السقا 1355هـ/1936م , 4/203
  3. السيرة النبوية لابن هشام — طبعة السقا 1355هـ/1936م , 4/204
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “قصيدة حسان «قومي أولئك إن تسألي كرام»”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/hassan-poem-qawmi-ulaika/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-19.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

متعلقہ

المدينة المنورة

City in the Hejaz to which the Prophet migrated in 622 CE; site of the Prophet's Mosque and the first Muslim community. The Prophet declared it a sanctuary as Abraham declared Mecca — its bounds 'between 'Ayr and Thawr' (or 'to Uhud' in the reading Abu 'Ubayd and al-Hazimi preferred) and 'between its two lava fields'; within them hunting and tree-cutting are forbidden and the bloodwit for unintended killing is heavier. Samhudi counts nearly ninety-five names for it, among them Tayba, Taba and Yathrib.