نماز میں رفع الیدین

خیالات زندہ اسلام

رفع اليدين في الصلاة

نمازی کا تکبیر کے ساتھ اپنے ہاتھ کندھوں تک اٹھانا۔ امام شافعی کتاب الام کی «اختلاف مالک و الشافعی» میں اس کی صورت بیان کرتے ہیں: تکبیرِ تحریمہ، رکوع کی تکبیر اور رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھ اٹھائے، سجدے میں نہیں؛ وہ امام مالک کی ابن شہاب سے، سالم سے، ابن عمر سے حدیث سے استدلال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نبی سے دس سے زیادہ صحابہ نے روایت کیا؛ اور اپنے مالکی مخاطب سے نقل کرتے ہیں کہ وہ تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھاتے ہیں پھر دوبارہ نہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global

worship-and-the-pillars

خلاصہ

نماز میں رفع الیدین یہ ہے کہ نمازی تکبیر کے ساتھ اپنے ہاتھ کندھوں تک اٹھائے۔ امام شافعی الام کی کتاب اختلاف مالک و الشافعی میں اس کے لیے «نماز میں ہاتھ کہاں اٹھائے جائیں» کے عنوان سے باب قائم کرتے ہیں۔ 1

امام شافعی کے نزدیک اس کی صورت

ربیع ان سے پوچھتے ہیں کہ نماز میں ہاتھ کہاں اٹھائے جائیں؟ وہ جواب دیتے ہیں: نمازی پہلی رکعت میں تین بار اور باقی ہر رکعت میں دو بار ہاتھ اٹھائے: نماز شروع کرتے وقت تکبیرِ تحریمہ کے ساتھ کندھوں تک، رکوع کی تکبیر کے وقت، اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے «سمع اللہ لمن حمدہ» کہتے وقت؛ تکبیرِ تحریمہ صرف پہلی رکعت میں ہے، اور سجدے میں ہاتھ نہ اٹھائے۔ 1 2

ان کی دلیل

  • امام مالک کی ابن شہاب سے، سالم سے، ان کے والد عبد اللہ بن عمر سے حدیث کہ نبی جب نماز شروع کرتے تو کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے، اور رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی، اور سجدے میں ایسا نہ کرتے۔ 1 2
  • یہی حدیث سفیان بن عیینہ کی زہری سے روایت سے؛ امام شافعی کہتے ہیں کہ یہ نبی سے دس سے زیادہ افراد نے روایت کی۔ 2
  • وائل بن حجر کی حدیث کہ انہوں نے نبی کو تحریمہ کے وقت، رکوع کا ارادہ کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت ہاتھ اٹھاتے دیکھا، اور جب وہ سردیوں میں ان کے پاس آئے تو انہیں چادروں کے اندر ہاتھ اٹھاتے دیکھا۔ 3
  • امام مالک کی نافع سے روایت کہ ابن عمر نماز شروع کرتے وقت کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے، اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت اس سے کم۔ 3

محقق حواشی میں حدیث کی تخریج موطا، بخاری اور مسلم سے کرتے ہیں، اور سنن ابی داود سے ابو حمید ساعدی کی نبی کی نماز کی صفت والی حدیث کی روایات نقل کرتے ہیں۔ 1 2 4

کتاب میں اختلاف کی صورت

جو یہاں ذکر نہیں ہوا

حنفیہ اور حنابلہ کا قول ان کی اپنی کتابوں سے، اور کوئی علمی رائے، یہاں نقل نہیں ہوئی۔

سوال پر آراء

سوال: نماز میں کن مقامات پر ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں؟

پہلی رائے · اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · Sunni — اہل سنت، شافعیہ: امام شافعیبنیادی حوالہ

تحریمہ، رکوع اور رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھ اٹھانا، مذکورہ احادیث کی بنا پر۔ 1 3
مزید آراء (1)

اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · Sunni — اہل سنت، مالکیہ: کتاب میں مالکی مخاطب کا قولبنیادی حوالہ

«ہم کہتے ہیں: نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھائے، پھر دوبارہ نہ اٹھائے»۔ امام شافعی جواب دیتے ہیں کہ وہ اس کو چھوڑ دیتے ہیں جو امام مالک نے نبی سے پھر ابن عمر سے روایت کیا؛ وہ نبی سے دو یا تین مقامات پر اور ابن عمر سے دو مقامات پر رفع روایت کرتے ہیں، مگر نبی کی پیروی صرف ایک میں کرتے ہیں۔ 3 مالکیہ کا قول یہاں ان کی کتابوں سے نقل نہیں ہوا (needs_source)۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Ruled on by
کتاب الام

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

ایک گواہ اور مدعی کی قسم پر فیصلہ· کاری گروں کا ضمان (اجیرِ مشترک کی ذمہ داری)· کتاب اختلاف العراقیین· اختلاف علی و عبد اللہ بن مسعود· کتاب اختلاف مالک و الشافعی· کتاب الام· نماز چھوڑنے والے کا حکم· أداء

ماخذ

  1. امام شافعی، الام، جلد ہشتم (تحقیق رفعت فوزی عبد المطلب، دار الوفاء 2001ء) , p.541
  2. امام شافعی، الام، جلد ہشتم (تحقیق رفعت فوزی عبد المطلب، دار الوفاء 2001ء) , p.542
  3. امام شافعی، الام، جلد ہشتم (تحقیق رفعت فوزی عبد المطلب، دار الوفاء 2001ء) , p.544
  4. امام شافعی، الام، جلد ہشتم (تحقیق رفعت فوزی عبد المطلب، دار الوفاء 2001ء) , p.543
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “نماز میں رفع الیدین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/practice/raf-al-yadayn-fil-salah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

ایک گواہ اور مدعی کی قسم پر فیصلہ

یہ کہ قاضی مدعی کے حق میں فیصلہ کرے جب وہ ایک گواہ لائے اور اس کے ساتھ قسم کھائے۔ امام شافعی کتاب الام میں ابن عباس کی حدیث سے، کہ نبی نے اس پر فیصلہ کیا، اسے ثابت کرتے ہیں، اور اسے اموال اور ان کے ہم معنی امور تک محدود رکھتے ہیں؛ چنانچہ نکاح، طلاق، عتق، حدود، قصاص، وصایت اور وکالت میں اس پر فیصلہ نہیں ہوتا، اور مدعی دو عورتوں کے ساتھ قسم نہیں کھاتا۔ وہ اس کے مخالفین کا رد کرتے ہیں اور ان کے دلائل نقل کرتے ہیں: کہ یہ کتاب اللہ کے خلاف ہے، اس کی حدیث مرسل ہے، اور زہری نے اس کا انکار کیا۔