یقظہ (بیداری)

اليقظة

مدارج السالکین میں ابن قیم الجوزیہ کے نزدیک سالکین کی پہلی منزل، جس کی تعریف وہ یوں کرتے ہیں: «غافلوں کی نیند سے چونکنے کے جھٹکے سے دل کا بے قرار ہونا»۔ وہ منازل السائرین میں ہروی کے اس قول کی شرح کرتے ہیں کہ یہ اللہ کے لیے اٹھ کھڑا ہونا ہے اور نعمت پر نظر، اپنے جرم کے مطالعے اور دنوں کے نفع و نقصان کی پہچان پر قائم ہے؛ اس کے بعد فکر، بصیرت اور عزم آتے ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك
خطہ
global

spirituality-and-sufismethics-and-character

خلاصہ

«یقظہ» (بیداری) ابن قیم الجوزیہ کے نزدیک مدارج السالکین میں عبودیت کی منازل میں پہلی ہے؛ یہ کتاب ابو اسماعیل ہروی کی منازل السائرین کی شرح ہے۔ منازل کے تعارف میں وہ ذکر کرتے ہیں کہ لوگوں نے ان کی صفت اور تعداد میں بہت کچھ کہا – کسی نے ہزار گنیں، کسی نے سو – اور ہر ایک نے اپنے سفر کے مطابق انہیں بیان کیا؛ پھر وہ یقظہ کی تعریف یوں کرتے ہیں: «غافلوں کی نیند سے چونکنے کے جھٹکے سے دل کا بے قرار ہونا»۔ 1

راستے میں اس کا مقام

ابن القیم کے نزدیک جس نے یہ جھٹکا محسوس کیا اس نے فلاح محسوس کی، ورنہ وہ غفلت کی مدہوشی میں ہے۔ بیدار ہو کر وہ اپنی «پہلی منزلوں» کی طرف سفر کے لیے کمر کس لیتا ہے۔ 1 وہ بعد کی منازل کی ترتیب یوں بیان کرتے ہیں: یقظہ «فکر» کو لازم کرتی ہے، یعنی دل کا اس مقصود پر نظر جمانا جس کے لیے وہ اجمالاً تیار ہوا مگر ابھی تفصیلی راستہ نہیں پایا؛ درست فکر «بصیرت» کو لازم کرتی ہے، جو ان کے نزدیک ایک نور ہے جسے اللہ دل میں ڈالتا ہے اور جس سے آدمی رسولوں کی دی ہوئی خبروں کی حقیقت ایسے دیکھتا ہے گویا آنکھوں سے دیکھ رہا ہو؛ اور یقظہ کے ساتھ وہ «عزم» کی منزل میں جاتا ہے، یعنی سفر پر پختہ ارادہ اور ہر رکاوٹ سے جدائی – جتنی کامل بیداری، اتنا مضبوط عزم۔ 1 2 وہ بصیرت کے تین درجے بتاتے ہیں: اسما و صفات میں، امر و نہی میں، اور وعد و وعید میں۔ 2 3

صاحبِ منازل کا قول

ابن القیم ہروی کا قول نقل کرتے ہیں: یقظہ وہ «اللہ کے لیے اٹھ کھڑا ہونا» ہے جس کا ذکر سورۂ سبا کی آیت میں ہے – غفلت کی اونگھ سے جاگنا اور سستی کے گڑھے سے نکلنا، بندے کے دل کی پہلی روشنی – اور یہ تین چیزوں پر قائم ہے۔ 4

نعمت پر نظر۔ دل اللہ کی نعمتوں کو دیکھے، ان کے شمار اور ان کی حد تک پہنچنے سے مایوس ہو، ان میں احسان کی پہچان کے لیے فارغ ہو، اور ان کے حق میں اپنی کوتاہی کو جانے۔ ابن القیم بیان کرتے ہیں کہ اس سے منعم کی محبت، اس کے ذکر کی لگن اور اپنے نفس کی تحقیر پیدا ہوتی ہے، یہاں تک کہ بندہ «سید الاستغفار» کے معنی کو پا لیتا ہے اور جان لیتا ہے کہ وہ احسان کے مشاہدے اور کوتاہی کے شہود کے درمیان اللہ کی طرف سفر کر رہا ہے۔ 4

اپنے جرم کا مطالعہ۔ وہ اپنے سابقہ اعمال کو دیکھے، ان کے خطرے کو سمجھے، ان کے تدارک کے لیے کمر کسے، ان کی غلامی سے نکلے اور ان کی «تمحیص» (صفائی) سے نجات چاہے۔ ابن القیم تمحیص کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ ایمان کو جرم کے میل سے پاک کیا جائے جیسے سونا صاف کیا جاتا ہے، اور ان کے نزدیک یہ دنیا میں چار چیزوں سے ہوتی ہے – توبہ، استغفار، مٹانے والی نیکیاں اور کفارہ بننے والی مصیبتیں؛ اگر یہ کافی نہ ہوں تو برزخ میں مومنوں کی نمازِ جنازہ اور استغفار، قبر کی آزمائش اور میت کو ہدیہ کیے گئے اعمال سے؛ اور اگر پھر بھی نہیں تو قیامت کے موقف میں اس کی ہولناکیوں، شفاعت اور اللہ کی معافی سے۔ 4 5 6 یہاں وہ اس بارے میں فقہاء کا اختلاف بیان کرتے ہیں کہ کن اعمال کا ثواب میت کو پہنچتا ہے: صدقہ اور دعا پر اجماع، اکثر کے نزدیک حج بھی، اور احمد کا مذہب اس میں سب سے وسیع ہے۔ 6

دنوں کے نفع و نقصان کی پہچان۔ وہ اپنے دنوں میں حاصل نفع اور نقصان سے باخبر ہو، باقی عمر میں فوت شدہ کی تلافی کرے، اور اپنی گھڑیوں بلکہ سانسوں کے معاملے میں بخیل ہو کہ وہ ایسی چیز میں نہ جائیں جو اسے اللہ کے قریب نہ کرے۔ 6 7

روابط

تمحیص کے بارے میں ابن القیم کے بیان کا موازنہ ابن تیمیہ کے گناہوں کی سزا ساقط کرنے والے اسباب سے کیا جا سکتا ہے: دونوں توبہ، استغفار، نیکیوں، مصیبتوں اور موت کے بعد کے امور کو گناہوں کی صفائی کے مراحل شمار کرتے ہیں۔ 5 8

جو ابھی شامل نہیں

منازل السائرین کا ہروی کا اپنا متن، اس کی دوسری شروح، اور مقامات کی ترتیب پر علمی مطالعات ابھی شامل نہیں کیے گئے۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Part of
مقامات اور احوال
Related to
عزم· التوبة

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

انابت· اللہ کی طرف فرار· حزن· اخبات· اعتصام· رعایت· ریاضت· الرسالۃ القشیریہ

ماخذ

  1. مدارج السالكين لابن قيم الجوزية، الجزء الأول، ضبط وتحقيق رضوان جامع رضوان (مؤسسة المختار، القاهرة 1422هـ) , p. 121
  2. مدارج السالكين لابن قيم الجوزية، الجزء الأول، ضبط وتحقيق رضوان جامع رضوان (مؤسسة المختار، القاهرة 1422هـ) , p. 122
  3. مدارج السالكين لابن قيم الجوزية، الجزء الأول، ضبط وتحقيق رضوان جامع رضوان (مؤسسة المختار، القاهرة 1422هـ) , p. 123
  4. مدارج السالكين لابن قيم الجوزية، الجزء الأول، ضبط وتحقيق رضوان جامع رضوان (مؤسسة المختار، القاهرة 1422هـ) , p. 136
  5. مدارج السالكين لابن قيم الجوزية، الجزء الأول، ضبط وتحقيق رضوان جامع رضوان (مؤسسة المختار، القاهرة 1422هـ) , p. 137
  6. مدارج السالكين لابن قيم الجوزية، الجزء الأول، ضبط وتحقيق رضوان جامع رضوان (مؤسسة المختار، القاهرة 1422هـ) , p. 138
  7. مدارج السالكين لابن قيم الجوزية، الجزء الأول، ضبط وتحقيق رضوان جامع رضوان (مؤسسة المختار، القاهرة 1422هـ) , p. 139
  8. منهاج السنة النبوية لابن تيمية، النسخة الرقمية للمكتبة الشاملة بتحقيق محمد رشاد سالم , p. 1786
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “یقظہ (بیداری)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/yaqaza/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

انابت

ابن قیم الجوزیہ کی مدارج السالکین میں سالکین کی ساتویں منزل، جو توبہ کے بعد آتی ہے۔ وہ اسے دو قسموں میں بانٹتے ہیں: اللہ کی ربوبیت کی طرف رجوع، جس میں مصیبت کے وقت مومن اور کافر شریک ہیں، اور اس کے اولیاء کا اس کی الوہیت کی طرف رجوع، جو اس کی محبت، اس کے سامنے عاجزی، اس کی طرف توجہ اور ماسوا سے اعراض پر مشتمل ہے؛ اور ہروی کی اس تعریف کی شرح کرتے ہیں کہ یہ اصلاح، وفا اور حال کے ذریعے حق کی طرف لوٹنا ہے۔